1 جون 2012 - 19:30

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے اسلامی جمہوریہ ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ماسکو میں ہونے والے مذاکرات تک اپنے ایٹمی پروگرام کے سلسلے میں بقول ان کے سنجیدہ اقدام انجام دے۔

ابنا:ہلیری کلنٹن نے کل ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں مزید کہا کہ امریکہ اور گروپ پانچ جمع ایک بقول ان کے ایران کے ایٹمی بحران کے حل کے سلسلے میں ایران کی جانب سے عملی اقدامات انجام دیۓ جانے کے خواہاں ہیں۔ 

ایران اور گروپ پانچ جمع کے درمیان تقریبا دو ہفتوں تک ماسکو میں ایک بار پھر مذاکرات ہونے والے ہیں۔ اس سے پہلے ایران اور گروپ پانچ جمع کے درمیان چودہ اپریل اور تیئيس مئی کو بغداد اور استنبول میں مذاکرات کے دو دور ہوچکے ہیں اور طے پایا کہ ان مذاکرات کا اگلا دور ماسکو میں ہوگا۔

یہ بات مسلم ہے کہ مذاکرات کی کامیابی کا انحصار متعدد اسباب پر ہے۔ جن میں سے ایک سبب ایران میں یورینیئم کی افزودگی بند کۓ جانے کے غیر منطقی اصرار کا ختم کیا جانا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے نزدیک گروپ پانچ جمع ایک کی جانب سے ایران کے ایٹمی حقوق کے تسلیم کۓ جانے اور یورپ کی جانب سے عملی اقدامات انجام دیۓ جانے سے بھی مذاکرات کی کامیابی میں مدد ملے گي۔ ماسکو مذاکرات فریقین کے لۓ اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ ان مذاکرات کی کامیابی سے آئندہ کےاقدامات کا راستہ ہموار ہو گا۔

واضح سی بات ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے مشترکہ امور کے سلسلے میں تبادلۂ خیالات کرنے کے مقصد سے مذاکرات کی میز پر واپسی کا خیر مقدم کیا لیکن وہ اس نکتے پر بھی زور دیتا ہےکہ این پی ٹی معاہدے کےتحت حاصل مسلمہ ایٹمی حقوق کے بارے میں مذاکرات نہیں کۓ جاسکتے ہیں۔ اور ہر طرح کے مذاکرات این پی ٹی معاہدے کے دائرے میں رکن ممالک کے حقوق کے احترام کی بنیاد پر ہونے چاہئيں۔ اس لۓ روس میں مستقبل میں ہونے والے مذاکرات کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کرنے والا فریق مثبت رویہ اختیار کرے اور اعتماد سازی پر مبنی اقدامات انجام دے۔ جبکہ ایران پر لگائي جانے والے پابندیوں کو جائز ظاہر کرنے سے متعلق بہانہ بازی اور امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کے دھمکی آمیز بیانات مذاکرات کی کامیابی میں کوئي مدد نہیں دے سکتے ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی تمام ایٹمی سرگرمیاں ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی آئي اے ای اے کی زیر نگرانی جاری ہیں لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکی حکام کے نزدیک عملی اقدامات کی کیا تعریف ہے جن کا وہ اسلامی جمہوریہ ایران سے مطالبہ کررہے ہیں؟ امریکی حکام کے سابقہ رویۓ کے مدنظر یہ کہا جاسکتا ہے کہ شائد ہلیری کلنٹن کا مقصود امریکہ کا یہی غیر معقول مطالبہ ہےکہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے جائز اور قانونی حقوق سے دستبردار ہوجاۓ۔

ایٹمی توانائي کے پرامن استعمال کے سلسلے میں این پی ٹی معاہدے کے رکن ممالک کے حقوق چونکہ واضح ہیں اس لۓ ہر طرح کے مذاکرات این پی ٹی معاہدے کے تحت ممالک کو حاصل حقوق کے احترام کی بنیاد پر ہونے چاہئيں۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے کیتھرین ایشٹون کی درخواست پر مشترکہ امور کی بنیاد پر گروپ پانچ جمع ایک کے ساتھ مذاکرات کا جو خیر مقدم کیا ہے اس کی ایک وجہ اسی نکتے سے عبارت ہے۔اور اسلامی جمہوریہ ایران کسی کو بھی یورینیئم کی افزودگی کے اپنے مسلمہ حقوق کو نظر انداز کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔....... /169