ابنا: خبروں کے مطابق يہ مظاہرہ ، زخمي اور زير حراست بحرينيوں کي حمايت ميں کيا جا رہا تھا کہ بحريني اور سعودي فوجيوں نے ان پر حملہ کر ديا۔
رپورٹوں کے مطابق بحرين ميں مظاہرين پر فوجيوں کے حملوں کا سلسلہ بدستور جاري ہے اور آل خليفہ حکومت نے مظاہرين کي سرکوبي ميں شدت پيدا کر دي ہے۔
کچھ لوگوں نے بتايا ہے کہ حاليہ مظاہروں کے دوران فوجيوں کي فائرنگ ميں دسيوں لوگ زخمي ہوئے ہيں جن ميں سے کئ کي حالت نازک ہے۔
بدھ کے روز ہونے والے ان مظاہروں ميں ، آل خليفہ حکومت کے خلاف نعرے لگائے گئے اور بحرين سے جارح سعودي فوجيوں کے اخراج کا مطالبہ کيا گیا۔
دوسري جانب بحرين ميں جاري عوامي تحريک اور مظاہروں کے دباؤ ميں آخرکار آل خليفہ کي حکومت کو بحرين کي انساني حقوق کي کارکن زينب الخواجہ کو رہا کرنا پڑا۔ زيب الخواجہ ، بحرين کي معروف شخصيت عبد الہادي الخواجہ کي بيٹي ہيں جنہيں اکيس اپريل سن دو ہزار بارہ کو حکومت کے خلاف پر امن مظاہرے کي تياري کے الزام ميں گرفتار کر ليا گيا تھا۔انہيں ايک مہينے جيل اور ساڑھے پانچ سو ڈالرنقد جرمانے کي سزا سنائي گئ تھی۔.......
/169