29 مئی 2012 - 19:30

شامی وزارت خارجہ کے ترجمان "جهاد المقدسي" نے سہل الحولہ کے قتل عام میں شامی افواج کے ملوث ہونے کے دعؤوں کی تردید کرتے ہوئے کہ: شام میں سرگرم عمل دہشت گرد ٹولوں کے عرب اور مغربی حامی شامی عوام کی نسل کشی کے ذمہ دار ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق جہاد المقدسی نے اتوار کے روز نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: ہم الحولہ کے علاقے میں شامی عوام کے قتل عام میں شامی افواج کے ملوث ہونے پر مبنی دعؤوں کی سرے سے تردید کرتے ہيں۔

انھوں نے کہا: الحولہ کے علاقے میں عوام کا قتل عام ایک منصوبہ بندی شدہ جرم تھا جس کا ارتکاب مسلح دہشت گردوں نے کیا اور ان دہشت گردوں نے اس سے قبل شامی افواج کے چیک پوسٹوں پر حملہ کیا تھا۔

انھوں نے بعض علاقائی اور بین الاقوامی قوتوں کی طرف سے اس انسانیت سوز جرم کے حوالے سے حکومت شام پر الزام تراشی کو افسوسناک قرار دیا اور کہا: قتل ہونے والے ہمارے اپنے شہری تھے اور شامی عوام کا خون ہماری حکومت اور فوج کے لئے محترم اور بیش بہاء ہے اور ہماری حکومت اور فوج اپنے عوام کے خون پر سودے بازی کا سوچ بھی نہیں سکتی لیکن جو قوتیں فوجی اقدامات اور دہشت گردی کی کاروائیوں کے ذریعے شام کی تقسیم کی توقع کررہی ہیں یہ وہی لوگ ہیں جو عوام کے خون پر سودے بازی کررہی ہیں اور مملکت شام کو ویران کرکے اس ملک کے عوام کا قتل عام کررہی ہیں۔

انھوں نے کہا ہر قوت اور ہر ملک جو دہشت گردوں اور مسلح گروپوں کی حمایت کرے شامی عوام کے خون کی ذمہ داری ان ہی پر عائد ہوتی ہے۔

انھوں نے کہا: شامی معاشرے میں مسلح عناصر اور دہشت گرد ٹولوں کی کوئی حیثیت نہيں ہے۔المقدسی نے کہا: حکومت شام نے مذاکرات اور بات چیت کی ہر تجویز کا خیر مقدم کیا لیکن مخالف فریق مذاکرات سے مسلسل بھاگتا ہوا نظر آیا۔

المقدسی نے کہا: شام کا بحران اس ملک کو نقصان پہنچا کر حل نہیں ہوگا اور ہم اپنے مسلمہ بین الاقوامی حقوق کی رو سے اپنے عوام اور اپنی سرزمین کا تحفظ کریں گے۔

........

/169

تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:

وہابی صہیونیوں کا نیا کارنامہ؛شام میں ایک ہی رات میں 114 افراد کا قتل عام