29 مئی 2012 - 19:30

شام میں "تنظیم المہاجرین" کے سیاسی ونگ کے سربراہ نے کہا کہ صوبہ حمص کے شہری سہل الحولہ میں ہفتہ (26 مئی کو) ہونے والا قتل عام شام دشمن قوتوں کی شرمناک خبث بھری سازش ہے جو انھوں نے اپنے ایجنڈے میں شامل کی ہوئی ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شام میں مہاجرین کی تنظیم کے سیاسی ونگ کے سربراہ "ضرار جمو" نے کہا کہ یہ قتل عام ایسے حال میں انجام پایا ہے کہ اقوام متحدہ کے ایلچی کوفی عنان شام کے دورے پر آرہے ہیں۔

انھوں نے کہا: شام کے دشمن ان حالات میں ٹارگٹ کلنگ کے مرحلے سے گذر کر قتل عام اور نسل کشی کے مرحلے میں داخل ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا: ان درندوں اور ان انسانیت دشمن جرائم پیش قاتلوں کی بیخ کنی کرنی چاہئے اور حکومت شام کو ان لوگوں سے چھٹکارا پانے کے مرحلے کی جانب بڑھنا چاہئے کیونکہ سیاسی حوالے سے کسی قسم کا جواز موجود نہیں ہے سوائے اس کے کا ان کا قلع قمع کیا جائے۔

انھوں نے ایک منظم سازش کی طرف اشارہ کیا اور الزام لگایا کہ بین الاقوامی برادری [مغرب اور عالمی تنظیمیں] ان خطرناک اور انسانیت دشمن قاتلوں کی حمایت کررہی ہے اور اقوام متحدہ کی طرف سے شام آنے والے ناظرین بھی صرف مقتولین کی تخمینہ لگانے کے کام میں مصروف ہيں اور گویا وہ جاننا چاہتے ہیں کہ قتل ہونے والے حکومت کے مخالفین اور حامیوں کی تعداد کتنی ہے!۔

انھوں نے کہا: کوفی عنان کے منصوبے کو کامیاب بنانے کے لئے ضمانتوں کی ضرورت ہے اور وہ یہ کہ ان کے منصوبے کی تمام شقوں پر حکومت بھی عمل کرے اور مسلح گروپ بھی ان شقوں پر عمل کرے اور یہ منصوبہ یک طرفہ طور پر حکومت شام تک ہی محدود نہ کیا جائے۔

انھوں نے کہا: کوفی عنان کا منصوبہ کامیاب نہیں ہوسکتا کیونکہ صرف حکومت شام اس کا خیر مقدم کررہی ہے اور حکومت نے بین الاقوامی نگرانوں کو بھی تمامتر سہولتیں فراہم کی ہیں لیکن بین الاقوامی برادری نے مسلح دہشت گردوں کے جرائم روکنے کے لئے کوئی اقدام نہيں کیا ہے اور انہیں دہشت گردی کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔

انھوں نے کہا: بین الاقوامی برادری حکومت شام کو عنان منصوبے پر عمل کروانے کے درپے ہے لیکن دوسری طرف سے دہشت گردوں کو عرب حکومتوں کی طرف سے امداد فراہم کی جارہی ہے اور ترکی اور لبنان میں شامی حکومت کے مسلح مخالفین کو دہشت گردی کی تربیت دی جارہی ہے۔  ........

/169

تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:

وہابی صہیونیوں کا نیا کارنامہ؛شام میں ایک ہی رات میں 114 افراد کا قتل عام