ابنا: شام میں دہشتگرد گروہوں نے صوبے حمص کے علاقے حولہ میں لوگوں کے مکانات کو نذر آتش کرتے ہوئے سو سے زائد افراد کا بہیمانہ قتل عام کیا جن میں دس سال سے کم عمر کے 32 سے زائد بچے بھی شامل ہیں ۔ اس ہولناک واقعے کے بعد غاصب صہیونی ریاست کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنے ایک بے تکے بیان میں یہ دعوی کیا ہے کہ شام میں ہونے والے قتل عام میں ایران اور حزب اللہ لبنان کا ہاتھہ ہے ۔ غاصب صہیونی ریاست کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہوکا یہ عجلت پسندانہ بیان اور دعوی بہت زیادہ غور طلب ہے ۔
گذشتہ ایک سال سے زائد عرصے کے دوران جب سے شام میں بحران شروع ہوا ہے صہیونی ریاست نے شام کی حکومت کا، جو اسرائیل کی جارحیت اور توسیع پسندانہ عزائم کے مقابلے میں قائم محاذ میں شامل رہی ہے تختہ الٹنے کی کوشش کی ہے ۔ جیساکہ اسرائیل کے وزیر جنگ ایہود بارک نے عالمی برادری کی جانب سے شام کی حکومت پر دباؤ بڑھائے جانے کی ضرورت پر تاکید بھی کی ہے ۔
اس میں کوئے شک و شبھہ نہیں کہ غاصب صہیونی ریاست شام کو کمزور بنانے کے مقصد سے کسی بھی سازش اور کوشش سے دریغ نہیں کرتی ۔ گذشتہ ایک سال کے دوران شام کی حکومت نے بارہا بین الاقوامی مبصرین کو ثبوت و شواہد پیش کرکے یہ بات مکمل طور پر ثابت کی ہے کہ شام کے حکومت مخالفین جو علاقے کے بعض ملکوں کی جانب سے مسلح کئے جارہے ہیں جب بھی شام کی صورت حال پرسکون اور بہتر ہوتی دیکھتے ہیں تو بحران و بدامنی والے علاقوں میں وحشیانہ ترین جرائم کا ارتکاب کرنے لگتے ہیں ۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے بھی شام میں بحران شروع ہونے کے ابتدائی مراحل سے ہی ہر اس منصوبے پر اپنی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے کہ جس سے شام میں امن و استحکام کی برقراری میں مدد مل سکتی ہے ۔
تہران نے شام میں اصلاحات سے متعلق عوامی مطالبات پر زور دیتے ہوئے شام کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کی حیثیت سے کوفی عنان کے امن منصوبے پر عملدرآمد کے سلسلے میں اپنی بھرپور کوشش کی ہے ۔ اس میں دو رائے نہیں کہ شام میں امن کی بحالی اور بحران کا خاتمہ اس ملک کے دوست ملکوں منجملہ اسلامی جمہوریہ ایران کی سب سے بڑی خواہش ہے ۔
در حقیقت صہیونی حکام کا یہ دعوی کہ شام میں دہشتگردانہ جرائم میں ایران کا ہاتھہ ہے اس بات کا ترجمان ہے کہ غاصب صہیونی ریاست شام کے بحران و بدامنی میں اپنی مداخلت سے رائے عامّہ کی توجہ ہٹانے کی کوشش کررہی ہے جبکہ ان کا یہ دعوی نہ صرف کوئی بنیاد نہیں رکھتا بلکہ غیر منطقی اور ناقابل جائزہ بھی ہے اسلئے کہ حولہ کے قتل عام کے بعد دمشق کی حکومت کے خلاف اٹھہ کھڑی ہونے والی لہر میں اس بات کا پتہ لگائے جانے کی ضرورت ہے کہ شام میں بحران کے شدّت اختیار کرجانے سے کونسے گروہ اور عناصر فائدہ اٹھا رہے ہیں اور یہ وہی ہیں جو صہیونی حلقوں سے وابستہ ہیں اور جو اپنے کارناموں میں جرم و جارحیت اور دہشتگردانہ اقدامات کا مکمل ریکارڈ بھی رکھتے ہیں ۔ ........
/169