25 مئی 2012 - 19:30

ایران کے بارے میں صہیونی ریاست کے حکام کے جنگ پسندانہ بیانات پر اسلامی جمہوریہ ایران نے سرکاری ردعمل ظاہر کیا ہے۔

ابنا: صہیونی ریاست کے وزیر جنگ ایہود باراک نے ایران اور گروپ پانچ جمع ایک درمیان بغداد مذاکرات سے قبل کہا تھا کہ ایران کی جانب سے آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کے لیے اپنی تنصیبات کے دروازے کھولنے کے سلسلے میں ابتدائی اتفاق رائے سے ایران پر اسرائیل کے فوجی حملے کا امکان ختم نہیں ہو گا۔ ایہود باراک گروپ پانچ جمع ایک کو ایران کے خلاف سخت موقف اپنانے پر اکسانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایہود باراک نے کہا کہ دنیا کو ایران کو ایٹم بم بنانے سے روکنا چاہیے اور تمام آپشن میز پر موجود ہیں۔صیہونی حکومت کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی ایران کے خلاف پابندیوں اور بائیکاٹ کے مؤثر واقع ہونے کے سلسلے میں شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر فوجی حملے کی دھمکی دی اور تہران پر مذاکرات میں دھوکہ دینے کا الزام لگایا۔صیہونی حکومت کے حکام کے ان بیانات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل نمائندے محمد حزا‏عی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے نام ایک خط ارسال کر کے صیہونی حکام کے بیانات کو اشتعال انگیز اور بین الاقوامی اصول و قوانین کے منافی قرار دیا۔محمد خزاعی نے اس خط میں اس بات پر زور دیا ہے کہ اس قسم کے بیانات اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے اور علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو مضبوط بنانے کے سلسلے میں کی جانے والی بین الاقوامی کوششوں کے خلاف اقدام شمار ہوتا ہے۔صہیونی ریاست نے حالیہ عشروں کے دوران علاقے کے ممالک کی حدود کی سب سے زیادہ خلاف ورزی ہے اور وہ ایران پر فوجی حملے کی کھلی دھمکی دے کر علاقے کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔صیہونی حکام ایک ایسے وقت میں ایران کی ایٹمی ترقی و پیشرفت پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ جب خود صیہونی حکومت مشرق وسطی کی وہ واحد حکومت ہے کہ جس کے پاس ایٹمی وار ہیڈز موجود ہیں اور وہ علاقے اور دنیا کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ سمجھی جاتی ہے جو نہ تو کسی بین الاقوامی قانون کی پابند ہے اور نہ ہی اس نے ایٹمی ہتھیاروں کو کنٹرول کرنے کے کسی بین الاقوامی معاہدے پر دستخط کر رکھے ہیں۔جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران نے گزشتہ عشروں کے دوران این پی ٹی کے دائرے میں مشرق وسطی کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے بےانتہا کوششیں کی ہیں۔بلاشبہ عالمی اداروں کی خاموشی کے سائے میں ایران کے خلاف صیہونیوں کے بیانات اور دھمکیوں کا جاری رہنا دنیا میں امن و سلامتی کے ذمہ دار اداروں کے لیے ایک چیلنج ہے۔ اگرچہ صیہونی حکومت اس قابل نہیں ہے کہ ایران پر حملے کی جرات کر سکے کیونکہ اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلی سیاسی و فوجی حکام نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران کے خلاف اسرائیل کی کسی بھی مہم جوئی کا دندان شکن جواب دیا جائے گا۔ .......

/169