ابنا: رہبر معظم انقلاب اسلامی کے بین الاقوامی امور کے مشیر ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے بغداد میں ایران اور گروپ 1+5 کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اپنے حقوق اور قومی مفادات سے پیچھے ہٹنے کے لئے کسی قسم کا دباؤ قبول نہیں کرےگا۔
انھوں نے کہا کہ بغداد میں مذاکرات کی تجویز اسلامی جمہوریہ ایران نے پیش کی تھی جبکہ گروپ 1+5 نے آسٹریا، ناروے یا سوئیزرلینڈ میں مذاکرات کی تجویز پیش کی تھی لیکن ایران نے بغداد میں مذاکرات کے مؤقف پر قائم رہا اور پھر مذاکرات کے پہلے مرحلے میں استنبول اور دوسرےمرحلے بغداد پر فریقین نے اتفاق کرلیا انھوں نے کہا کہ ایران نے بغداد میں اجلاس رکھوا کر یہ واضح کردیاع ہے کہ عراق میں امن و سلامتی کی صورتحال میں کافی بہتری آئی ہے البتہ ممکن ہے کہ دہشت گرد ممکنہ طور پر کوئی کارروائی کریں لیکن ایسا کسی بھی ملک میں ممکن ہے۔
ڈاکٹر ولایتی نے کہا کہ ایران ہمیشہ صداقت کے ساتھ مذاکرات میں حاضر ہوا ہے اور ہم قومی اور ملکی مفادات سے ہر گز پیچھے نہیں ہٹیں گے اور نہ ہی اس سلسلے میں کسی قسم کا دباؤ برداشت کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ ایران بین الاقوامی قوانین کے مطابق پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول کی تلاش میں ہے اور ایسا کرنا ہر ملک کا حق ہے۔ ........
/169