ابنا: دوسری جانب امریکہ جس نے اپنے پانچویں بحری بیڑے کو بحرین میں تعینات کر رکھا ہے، علاقے میں عوام کی بڑھتی ہوئی طاقت سے خوفزدہ ہے اور علاقے میں ایران کے اسلامی انقالاب کی مانند انقلابات کو روکنے میں سعودی عرب سمیت اپنے دیگر دوستوں سے مایوس ہوچکا ہے۔ ان حالات میں بحرین کی انقلابی تحریک کو دبانے کا واحد چارہ یہ رہ گیا ہے کہ مملکت بحرین کی مستقل حثیت کو ہی ختم کرکے اس کو سعودی عرب میں ضم کردیا جائے۔
لیکن یہاں مسئلہ یہ کہ خود سعودی عرب کو اس وقت اپنے مشرقی علاقوں میں عوامی مزاحمت کا سامنا ہے اور کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب آل سعود سے بیزار اس خطے کے عوام سڑکوں پر مظاہرہ نہ کرتے ہوں۔ ایک اور بات یہ کہ بحرین پر سعودی عرب کے مکمل تسلط کی صورت میں، کویت، قطر، اور متحدہ عرب امارات جیسے چھوٹے اور دولت مند ملکوں کے حکمرانوں کو اپنے مستقبل کے تعلق سے خدشات لاحق ہوجائیں گے۔ لہذا اس منصوبے کی ان کی جانب سے موافقت کی زیادہ توقع نہیں رکھی جاسکتی۔
بہرحال بحرین کے عوام جو گذشتہ ایک سال سے اپنے حقوق کے لئے پر امن طور پر مظاہرے کر رہے ہیں، اپنے وطن کے سعودی عرب کے ساتھ الحاق کے منصوبے پر سخت بپھرے ہوئے ہیں اور اس ناپاک منصوبے کو امریکہ کی سازش قرار دے رہے ہیں۔چنانچہ کل کا دن انہوں نے امریکہ کی رسوائي کے طور پر منایا۔ اس موقع پر ملت بحرین نے سعودی عرب سے بحرین کے الحاق کی کوششوں اورملت بحرین کے خلاف امریکہ کی سازشوں کی مذمت کی۔ ایک عرب مبصر فواد ابراہیم کے مطابق کہ بحرین کے سلسلے میں سعودی عرب کی توسیع پسندانہ پالیسیوں سے علاقے میں کشیدگي بڑھے گي۔ فواد ابراہیم کہنا ہے کہ آل سعود اسلامی بیداری کےفروغ سے خوفزدہ ہے اور اسی کا مقابلہ کرنے کےلئے اس نے بحرین کے الحاق کی تجویز پیش کی ہے۔ جیسا کہ عرض کیا گیا کہ بحرین کے سعودی عرب سے الحاق کی تجویز کو نہ صرف ملت بحرین قبول نہیں کرے گی بلکہ علاقے کی حریت پسند اقوام بھی اس سازش کے مقابلے میں ڈٹ جائیں گی۔
ایرانی عوام نے اس سلسلے میں اپنی مخالفت کا پہلے ہی اعلان کردیا ہے۔ کل دارالحکومت تہراتن سمیت پورے ایران میں وسیع احتجاجی مظاہرے ہوئے جن میں شریک مظاہرین نے بحرینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرنی کے ضمن میں امریکہ اور سعودی عرب کی اس مشترکہ سازش کی بھرپور انداز میں مذمت کی۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے کمیشن کے رکن محمد کریم عابدی نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ سعودی عرب کی توسیع پسندی کے خلاف اقدام کر کے ملت بحرین کو آل سعود کے خوفناک چنگل سے نجات دلائے۔ محمد کریم عابدی نے ہمارے نمائندے سے گفتگو میں کہا ہے کہ آل سعود نے، جسے علاقے اور عالم اسلام میں کوئي مقام حاصل نہیں ہے، علاقے میں اپنی پالیسیوں کا نیا مرحلہ شروع کیا ہے اور وہ اپنے تیل سے حاصل ہونی والی آمدنی سے استفادہ کر کے یہ کوشش کر رہی ہے کہ صہیونی حکومت کی حامی حکومتيں علاقے میں باقی رہیں۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب جو اسلامی انقلاب سے پہلے شاہ ایران کو صہیونی حکومت کا آلہ کار کہتا تھا، آج خود صہیونی حکومت کا آلہ کار بن چکا ہے اور شام کے مخالفین کی سب سے زیادہ مدد کر رہا ہے۔ کریم عابدی نے کہا کہ سعودی عرب نے علاقے میں سکیورٹی کا توازن بگاڑ دیا ہے اور گذشتہ ایک برس سے آل سعود کے کارندے بحرین، یمن اور عمان میں نہتے عوام کا قتل عام کر رہے ہیں۔ بحرین میں علماء کونسل کے سربراہ آیت اللہ شیخ عیسی قاسم نے سعودی عرب سے بحرین کے الحاق کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ملت بحرین کو اس کی مخالفت کرنے کا حق حاصل ہے اور آل خلیفہ کو چاہیے کہ اپنے عوام کی خواہشات کا احترام کرے ۔
انہوں نے سعودی عرب سے بحرین کے الحاق کو ظلم کا واضح مصداق قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملت بحرین کے مطالبات کو نظر انداز کرنے کی آل خلیفہ کی پالیسی کسی بھی قانون، عقل اور عرف سے میل نہیں کھاتی ہے۔ آیت اللہ شیخ عیسی قاسم نے کہا کہ ملت بحرین اپنی پرامن تحریک جاری رکھے گي۔ دنیا پر حاکم سیاسی نظام اور ضوابط کے تحت بھی سعودی عرب کے ساتھ بحرین کے الحاق کا منصوبہ عملی نہیں ہے اس لئے کہ دوملکوں کےدرمیان الحاق کوئی ایسی چیزنہيں ہے جس پرملکوں کےحکام اکیلے ہی فیصلہ کرلیں بلکہ اس طرح کےمسائل کےلئےعوامی ریفرینڈم کی ضرورت ہوتی ہے۔
اقوام متحدہ کےمنشور میں بھی عوام کواپنی قسمت کافیصلہ کرنےکاحق دیاگیاہے۔چنانچہ جمعیت الوفاق نے ملک کےسب سے بڑی مخالف پارٹی کی حیثیت سے اپنے ایک بیان تاکید کی ہےکہ کسی ملک کی طاقت کا سرچشمہ عوام ہوتے ہیں اوربین الاقوامی قوانین کےمطابق اس طرح کا الحاق عوام کی رائے اور ریفرینڈم کےذریعے ہی ممکن ہے لہذا اگر طاقت کے زور پر ایسا کیا گیا تو اس کے نتائج نہایت خطر ناک ہوں گے اس لئے کہ یہ کسی آزاد اور حریت پسند قوم کی تقدیر فیصلہ ہے جو اپنے قانونی اور جائز حقوق کی بحالی کے لئے سر دہڑ کی بازی لگانے کے لئے تیار ہے۔ ........
/169