ابنا: اسلام آباد پولیس کے سربراہ بنیامین نے بتایا کہ مختلف سفارت خانوں کو موصول ہونے والے ان خطوط کے ہمراہ چھوٹے پیکٹوں میں سیاہ رنگ کا پاؤڈر بھیجا گیا ہے، جسے جانچ کے لیے لیبارٹری بھجوا دیا گیا ہے۔
ان خطوط میں کہا گیا ہے کہ یہ ’زہر‘ کا نمونہ ہے اور اگر پاکستان نے افغانستان میں متعین نیٹو افواج کے لیے سپلائی روٹ کھولا، تو نیٹو فوجیوں کو ایسی ہی زہریلی اشیا ملیں گی۔
واضح رہے کہ پاکستان نے گزشتہ چھ ماہ سے افغانستان میں تعینات غیر ملکی فوجوں کے لیے رسد کی سپلائی کے لیے اپنی سرزمین کا استعمال روک رکھا ہے، جسے اب دوبارہ کھولنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ایک سینئر سکیورٹی اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ فرانسیسی اور آسٹریلوی سفارت خانوں اور برطانوی ہائی کمیشن کو یہ مشکوک پیکٹ موصول ہوئے ہیں جبکہ ممکنہ طور پر دیگر سفارتی مشن بھی اس حملے کا نشانہ بنے ہوں گے۔
اسلام آباد پولیس کے سربراہ بنی امین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’سفارت خانوں کو یہ چھوٹے پیکٹ موصول ہوئے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ بھیجے گئے پاؤڈر کی مقدار اتنی کم ہے کہ اس کی جانچ ایک مشکل کام ہے۔ لگتا یوں ہے جیسے کسی نے یہ قدم خوف اور اشتعال پھیلانے کے لیے اٹھایا ہے۔ ہم ان نمونوں کو لیبارٹری بھجوا رہے ہیں۔‘امین نے بتایا کہ دیکھنے میں یہ پاؤڈر سرمہ لگتا ہے۔ایک مغربی سفارت خانے سے تعلق رکھنے والے ایک عہدیدار نے بتایا کہ اس پاؤڈر کے ہمراہ بھیجا گیا خط ہاتھ سے تحریر کردہ ہے، جس میں ٹوٹی پھوٹی انگریزی استعمال کی گئی ہے۔
اس تحریر میں خبردار کیا گیا ہے کہ افغانستان میں عسکریت پسندوں کے ہلاک کیے جانے کا بدلہ لیتے ہوئے مغربی افواج تک پاکستان کے راستے خوراک کی فراہمی کی صورت میں اس خوراک کو زہریلا بنا دیا جائے گا۔اس سفارت کار کے مطابق، ’ہمیں یہ سرمئی پاؤڈر پلاسٹک کی ایک تھیلی میں خط کے ہمراہ موصول ہوا ہے، تاہم ہم نے اسے کھولا نہیں۔ اس سے کسی شخص کو کوئی نقصان نہیں پہنچا کیونکہ اس پیکٹ کو بند ہی رہنے دیا گیا اور پاکستانی حکام کو آگاہ کر دیا گیا۔
.......
/169