ابنا: مزید اطلاعات کے مطابق ایک مومن محمد علی ملازئی پی-ٹی-سی-ایل کے ریٹایرڈ ملازم تھے۔ جنہیں کالعدم جماعت کے مسلح دھشتگردوں نے فائرنگ کرکے شھید کردیا۔
اطلاعات کے مطابق شہید کی نماز جنازہ بھی علاقے میں ادا کردی گئی اور تدفین بھی مقامی قبرستان میں ہوئی۔
یاد رہے کوئٹہ شیعیان آل محمد (ص) کی قتل گاہ بنا ہوا ہے اور بلوچستان کے مختلف شہروں میں بھی شیعیان علی (ع) کی نسل کشی جاری ہے، اور شیعیان علی (ع) کو چن چن کر شہید کیا جارہا ہے۔ جن کا جرم صرف اور صرف آل محمد (ص) کا حب ہے۔
بشکریہ از: شیعہ کلنگ
واضح رہے کہ بلوچستان میں قوم پرستی اور مذہب پرستی کے دعویدار دہشت گرد اور درندے ایک دوسرے سے ہمآہنگ ہیں اور ان دونوں کا مقصد بلوچستان میں پاکستان کی سالمیت کے حامیوں کا قلع قمع کرنا ہے اور چونکہ قوم پرست دہشت گرد اپنے اوپر مذہبی دہشت گردی کا الزام مول نہیں لینا چاہتے چنانچہ انھوں نے بظاہر اپنے ہی ایک گروپ کو مذہبی دہشت گردی کی ذمہ داری سونپ دی ہے اور بعض اطلاعات کے مطابق ان دونوں کی کمانڈ صہیونی، امریکی اور امریکہ و صہیونی ریاست سے ہمآہنگ عرب ممالک کے افسروں اور بھارتی ایجنٹوں اور افسروں کے ہاتھ میں ہے اور بعض آن دی ریکارڈ معلومات کی اساس پر ان سب بیرونی ایجنٹوں اور اداروں کی پاکستانی ایجنسیوں میں اپنی اپنی لابیاں ہیں۔
ظاہر سی بات ہے کہ بلوچستان میں ان لوگوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جارہا ہے جو پاکستان کی سالمیت کے حامی ہیں اور پاکستان کے سالمیت کے تحفظ کے دعویدار اداروں کو اس بات کی طرف توجہ دینی چاہئے کہ شیعیان بلوچستان بھی پاکستان کی سالمیت پر قربان ہورہے ہیں اور اگر وہ آج ہی علیحدگی پسندوں سے جاملیں تو ان کی ٹارگٹ کلنگ بند ہوجائے گی لیکن وہ لاشیں اٹھا اٹھا کر بھی پاکستان پائندہ باد کے نعرے لگا رہے ہیں لیکن سالمیت کے تنخواہ دار محافظوں کو نہ صرف ان کو تحفظ کی فراہمی کی توفیق حاصل نہيں ہے بلکہ کبھی کبھی تو وہ ملک دشمنوں کی صفوں میں کھڑے نظر آتے ہیں یا پھر دہشت گردوں کی رہی سہی کسر پورا کرنے کے لئے خودکش حملوں کے بعد لاشیں اور زخمی اٹھانے والے محب وطن پاکستانیوں پر فائرنگ کرتے ہیں اور پھر ملک دشمن دہشت گردوں کو پکڑنے کی بجائے شہیدوں کے وارثین کو پکڑ لیتے ہیں اور یہ سلسلہ پاکستان کے تمام شہروں میں جاری ہے۔
.......
/169 - 110