ابنا: اقوام متحدہ کے انسان دوستی کے امور سے متعلق دفتر نے کل ایک بیان میں کہا کہ صہیونی ریاست کے فوجیوں نے بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی قیدیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے مقصد سے جلوس نکالنے والے فلسطینیوں پر حملہ کر کے ان میں سے ایک سو ساٹھ کو زخمی کردیا ہے جن میں سے کم از کم اٹھائيس بچے ہیں۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب عالمی راۓ عامہ کی جانب سے فلسطینی قیدیوں پر روا رکھے جانے والے صہیونی ریاست کے تشدد پر تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ صہیونی جیلوں میں قید بعض فلسطینیوں نے تقریبا ڈھائی ماہ قبل صہیونی ریاست کی جانب سے قیدیوں کے حقوق کی خلاف ورزی کۓ جانے کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کی اور سترہ اپریل کو بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی قیدیوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئي۔
اس وقت تقریبا پانچ ہزار فلسطینی شہری صہیونی ریاست کی جیلوں میں قید ہیں جن کو پانی ، ضروری غذا ، علاج معالجےکی سہولیات اور اپنے گھروالوں سے ملاقات جیسے بنیادی حقوق سے بھی محروم رکھا جارہا ہے۔ اور اس کے ساتھ ان کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان حالات میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے صہیونی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی قیدیوں کی جلد از جلد آزادی کا راستہ ہموار کریں۔
بان کی مون نے فلسطینی قیدیوں کی ابتر صورتحال پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے اور صہیونی حکام کو مخاطب کرتے ہوۓ کہا ہے کہ اس صورتحال کا جاری رہنا قابل قبول نہیں ہے۔ بان کی مون نے ایک بار پھر فلسطینی امور میں اپنے خصوصی نمائندے رابرٹ سری کے اقدامات کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ رابرٹ سری نے گزشتہ ہفتے صہیونی ریاست کی جیلوں میں قید فلسطینیوں کی ابتر صورتحال پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب صہیونی ریاست کے غیر انسانی اور تباہ کن اقدامات ، فلسطینیوں کے گھروں کے انہدام اور فلسطینیوں کو ان کے گھر بار چھوڑنے پر مجبور کرنے جیسے اقدامات پر عالمی راۓ عامہ اور بین الاقوامی ادارے اپنی تشویش ظاہر کررہے ہیں۔ اس سلسلے میں اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل اکمل الدین احسان اوغلو نے فلسطینی پناہ گزینوں کی مشکلات حل کۓ جانے کی ضرورت پر تاکید کی ہے۔
اکمل الدین احسان اوغلو نے ترکمانستان کے دارالحکومت عشق آباد میں ایک بین الاقوامی کانفرنس میں تقریر کرتے ہوۓ کہا ہے کہ فلسطینی پناہ گزینوں کے مسئلے پر خصوصی توجہ دی جانی چاہۓ کیونکہ فلسطینی پناہ گزین بہت ہی ابتر صورتحال سے دوچار ہیں۔ اکمل الدین احسان اوغلو نے فلسطینی پناہ گزینوں کے مسئلے کے حل کے لۓ بین الاقوامی قراردادوں پر عملدرآمد کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوۓ کہا کہ اس سلسلے میں لیت و لعل سے کام لۓ جانے کی وجہ سے فلسطینی پناہ گزینوں کے حقوق مسلسل پامال ہورہے ہیں اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
واضح رہے کہ فلسطینی پناہ گزینوں کو امداد فراہم کرنے والی اقوام متحدہ کی ایجنسی کے اعداد و شمار کے مطابق پناہ گزیں فلسطینیوں کی تعداد پانچ ملین سے بھی زیادہ ہے۔ ......
/169