11 مئی 2012 - 19:30

ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی آئي اے ای اے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے نمائندے علی اصغر سلطانیہ نے ایران کی جانب سے این پی ٹی معاہدے کی پابندی کۓ جانے پر تاکید کرتے ہوۓ کہا ہے کہ این پی ٹی کے دوسرے رکن ممالک کو بھی ماضی سے زیادہ ایران کے ساتھ تعاون کا راستہ ہموار کرنے کے اقدامات انجام دینے چاہئيں۔

ابنا: ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کی کوشش ، این پی ٹی معاہدے پر مکمل طور سے عملدرآمد اور پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی تک رسائی پر مبنی تمام ممالک کے حق کا تسلیم کیا جانا ان موضوعات میں سے ہیں جن پر اسلامی جمہوریہ ایران کے نمائندے نے ویانا میں ہونے والی این پی ٹی جائزہ کانفرنس میں تاکید کی ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران نے ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے رکن ہونے کے ناتے اب تک اس ایجنسی کے ساتھ سب سے زیادہ تعاون کیا ہے اور واضح سی بات ہے کہ اسے این پی ٹی معاہدے کے دائرے میں اپنے جائز حقوق سے ہمکنار ہونے کا حق بھی حاصل ہے اور یہ اس ایجنسی کی ذمےداری ہے کہ وہ اپنے رکن ممالک کو تکنیکی مدد فراہم کرے تاکہ وہ پرامن مقاصد کے لۓ ایٹمی ٹیکنالوجی سے بہتر طور پر فائدہ اٹھا سکیں۔

بہرحال جیسا کہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی میں اسلامی جمہوریہ ایران کے نمائندے علی اصغر سلطانیہ نے ویانا میں این پی ٹی معاہدے کی جائزہ کانفرنس میں کہا ہے کہ ایران اس معاہدے کی پابندی کرتا ہے اور وہ اپنے حقوق بھی حاصل کر کے رہے گا۔ ظاہر سی بات ہے کہ پرامن مقاصد کے لۓ ایٹمی ٹیکنالوجی تک رسائي این پی ٹی معاہدے سے بالا تر کوئي مطالبہ نہیں ہے اور اس مطالبے کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اسی زاویہ نگاہ کے تحت یہ توقع کی جارہی ہے کہ ترکی کے شہر استبول میں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان جن مذاکرات کا آغاز ہوا اور جن کا دوسرا دور عراق کے دارالحکومت بغداد میں ہوگا ان کے نتیجے میں ملت ایران کے حقوق کے احترام کے ساتھ ساتھ مثبت ماحول میں باہمی تعاون کا راستہ ہموار ہوگا۔

واضح رہے کہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور تیئیس مئی کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں ہوگا۔ دریں چودہ اور پندرہ مئی کو ایران اور ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے درمیان ویانا میں مذاکرات کا دوسرا دور ہونے والا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران اور ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے کے درمیان ہونے والے ان مذاکرات کا مقصد متنازعہ مسائل کا حل اور باہمی تعاون میں توسیع کے راستوں کا جائزہ لینا ہے۔ ان امور سے پتہ چلتا ہے کہ ایران مذاکرات کے سلسلے میں سنجیدہ ہے۔ لیکن وہ مذاکرات کے لۓ کسی پیشگی شرط کو قبول نہیں کرے گا۔ اور این پی ٹی معاہدے میں بیان شدہ اپنے ایٹمی حقوق سے بھی دستبردار نہیں ہوگا۔ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی میں اسلامی جمہوریہ ایران کے نمائندے علی اصغر سلطانیہ نے پرامن مقاصد کے لۓ یورینیئم کی افزودگی سمیت پرامن ایٹمی سرگرمیوں کے جاری رہنے پر جو ایک بار پھر تاکید کی ہے وہ درحقیقت ایک ایسا واضح پیغام ہے جس پر ویانا میں ہونے والی این پی ٹی جائزہ کانفرنس میں ایران کے نمائندے کی جانب سے زور دیا گيا ہے۔....... /169