10 مئی 2012 - 19:30

ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردوغان نے اپنے اسلام نواز موقف پر تنقید پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ترکی میں سیکولر نظام کو باقی رکھنے پر زور دیا ہے۔

ابنا: ترک وزیراعظم رجب طیب اردوغان کہ جنہوں نے اس سے قبل ملک کے لیے وطن پرستی کے بجائے دین کو ایک ضروری اصول قرار دیا تھا ، مجبورا اپنے مخالفین کے مقابل کہا ہے کہ ان کے بیانات کا غلط مطلب لیا گيا ہے۔ اردوغان کو ترکی کے اسلام نواز میڈیا نے کئي مرتبہ اسلام کے مقابلے میں سیکولرازم کی حمایت کرنے کی بنا پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ درحقیقت اب بھی ترکی میں اردوغان کی جانب سے سیکولر نظام کو باقی رکھنے کا پابند رہنے کے بارے میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ بعض سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ ترکی میں سیکولرازم اور اسلام پسندی کے درمیان مقابلہ آرائی موجود ہے۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ ترکی کے مسلمان عوام کا ایک مطالبہ یہ ہے کہ ملک کے آئین سے سیکولرازم کو حذف کر دیا جائے لیکن اس کے مقابل بعض سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اردوغان نے ترکی میں اسلام اور سیکولرازم کے درمیان امن و آشتی قائم کی ہے۔ اس بنا پر یہ مبصرین ترکی میں اسلام پسندوں اور سیکولر افراد کے درمیان محاذ آرائي نہیں دیکھتے ہیں۔ اس کے باوجود کہا جا سکتا ہے کہ ترکی میں سیکولر پارٹیوں سمیت بعض سیاسی جماعتیں کہ جن کا مختلف ادوار میں ملک کے سیاسی ڈھانچے میں اہم کردار رہا ہے، اب بھی ملک کے سیاسی میدان میں مؤثر کردار کی حامل ہیں۔ابھی تک عوامی جمہوری پارٹی جیسی بعض جماعتوں کی جانب سے سب سے زیادہ تنقید کی گئی ہے۔ وہ پارٹی کہ جو ترکی میں سیکولرازم اور کمال ازم کی علمبردار رہی ہے اور جس کو ہمیشہ ترک فوج کی حمایت حاصل رہی ہے۔اس کے علاوہ یہ پارٹی کہ جو بائیں بازو کے قوم پرست رجحانات رکھتی ہے، انٹرنیشنل سوشلسٹ تنظیم کی بھی رکن ہے۔حتی ایک تجزیہ یہ بھی ہے کہ ترکی کے ہمسائے یونان سمیت یورپ میں بائیں بازو کی جماعتوں کے برسراقتدار آنے کے پیش نظر بعید نہیں ہے کہ ترکی میں بھی بائیں بازو کی جماعتوں کو اقتدار میں آنے کا موقع مل جائے۔ البتہ یہ تجزیہ و تحلیل اندازے اور گمان کی حد تک ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ اردوغان موجودہ حالات میں اپنے اسلام نواز حامیوں کو ساتھ رکھنے پر مجبور ہیں۔اسی بنا پر وہ تھوڑے تھوڑے عرصے کے بعد ملک میں ایک ضروری اصول کی حیثیت سے دین کو باقی رکھنے کے عنصر پر زور دیتے رہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ علاقے کے عرب ممالک میں سیکولر نظام کی ترویج اور تبلیغ کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ ترکی کے اخبار اسٹار کے صحافی فہمی کورو لکھتے ہیں سیکولر لفظ کا عربی میں ممکن ہے بے دینی ترجمہ کیا جائے اور اس سے اردوغان کی ساکھ کو زبردست نقصان پہنچے گا۔اس بنا پر بعید نہیں ہے کہ اردوغان اس قسم کا مطلب لیے جانے کے مقابل اپنے ملک میں دین کو باقی رکھنے کی ضرورت پر زور دیں۔اس کے باوجود بہت سے مغربی ممالک کی جانب سے ترکی میں سیکولر نظام کی تبلیغ و ترویج کرنے کے لیے رجب طیب اردوغان کی تعریف و توصیف کی جا رہی ہے۔......./169