3 مئی 2012 - 19:30

[اوباما کےبیان کی روشنی میں افغان عوام کو سن 2014 تک امریکی فوجیوں کی ایذا رسانیوں اور تفریحا قتل عام کی کاروائیوں کو تو برداشت کرنا ہوگا] اوباما کےبیان کی روشنی میں افغان عوام کو سن 2014 تک امریکی فوجیوں کی ایذا رسانیوں اور تفریحا قتل عام کی کاروائیوں کو تو برداشت کرنا ہوگا.

ابنا: امریکی صدر براک اوباما القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کی امریکی فوجیوں کے ہاتھوں ہلاکت کا ایک سال مکمل ہونے پر افغانستان پہنچے، جہاں انہوں نے صدر کرزئی کے ساتھ طویل المدت شراکت داری معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد امریکی فوجیوں اور قوم سے خطاب بھی کیا۔ اطلاعات کے مطابق اسامہ بن لادن کی ہلاکت کو ایک سال مکمل ہونے پر امریکی صدر براک اوباما اچانک دورے پر بگرام کے ہوائی اڈے پر پہنچے اور اس کے بعد افغان دارالحکومت کابل میں مختصر قیام کے دوران ایک طویل المدت شراکت داری کے معاہدے پر دستخط بھی کئے، جس کے تحت امریکی افواج 2014 کے بعد بھی افغانستان میں رہ سکیں گی۔ اس موقع پر صدر حامد کرزئی نے کہا کہ افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے بعد ہونے والا معاہدہ دونوں ممالک کے لیے یکساں شراکت داری کے مواقع فراہم کرے گا۔ افغان صدر حامد کرزی کی جانب سے یکساں شراکت داری کی امید کو مبصرین، امریکیوں کی خصلت کے پیش نظر دور از تصور سمجھتے ہیں اور ان کا کہنا ہی کہ امریکہ کا اس اسٹراٹیجک معاہدے کا بنیادی ہدف اپنے جانی اور مالی نقصان اور اخراجات کو کم کرنا ہے لہذا اس معاہدے کو اختیار اور انتظام کی تقسیم کے معنوں میں لے لینا نہایت سادگی ہوگی۔ چنانچہ بگرام ائر بیس پر امریکیوں فوجیوں سے خطاب میں مسٹر اوباما کہ یہ کہنا کہ ان کی قربانیوں سے امریکا محفوظ ہے، لیکن مشکل وقت ابھی ختم نہیں ہوا، امریکہ کے آئندہ کے عزائم کو واضح کرنے کے لئے کافی ہے۔ امریکی قوم سے خطاب کرتے ہوئے اوباما کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سالمیت، خود مختاری اور اس کے جمہوری اداروں کا احترام کرتے ہیں لیکن عملا امریکہ، پاکستان کے اقتدار اعلی اور ارضی سالمیت، کہ جس کے احترام کے مسٹر اوباما مدعی ہیں، مذاق اڑاتا نظر آتا ہے لہذا یہ ماننا کہ افغانستان کے ساتھ اسٹرٹیجیک معاہدے کے بعد افغانستان کے امورمیں امریکہ کی مداخلت ختم یا کم ہوجائےگی بعید ہے اور اس کی دوسری وجہ دہشت گردی کے تعلق سے امریکی پالسیاں ہیں کہ جن میں تضاد اور دہرا معیار اس امکان کو سلب کرلیتا ہے کہ افغان عوام کی مشکلات کا دور 2014 کے بعد ختم ہوجائےگا۔ مسٹر اوباما نے امریکی صدر اوباما کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کا عمل شروع ہو چکا ہے اور 2014ء تک افغان باشندے اپنے ملک کی سلامتی کے ذمہ دار ہوں گے۔ صدر اوباما نے واضح کیا کہ افغانستان میں مستقل فوجی اڈے نہیں بنائے جائيں گے۔ اوباما نےاس بات کا بھی اعتراف کیا کہ بہت سے امريکي، افغان جنگ سے تھک چکے ہيں۔ ليکن جس کام کا افغانستان ميں آغاز کيا تھا اسے ختم کرنا ہوگا۔ امريکي فوجيوں نے افغانستان ميں اپنا فرض ادا کر ديا ہے۔ صدر اوباما نے افغانستان میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں جس فرض کو پورا کئے جانے کی بات کی ہے وہ فریضہ کیا تھا اور کس طرح پورا کیا اس کو وہ شائد عمر بھر نہ بتاسکیں، لیکن افغان عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ انہوں نے امریکیوں کے ہاتھوں ان برسوں میں کیا جھیلا ہے۔ امریکیوں نے افغان عوام پر طالبان اور طالبان پر القاعدہ کو مسلط کرکے سابق سویت یونین کی ملحد حکومت پر مجاہدین کی تاریخی فتح کو تلخی میں بدل دیا اور افغانستان میں نہ ختم ہونے والی لڑائی اور جنگ و خونریزی کا سلسلہ شروع کردیا۔ بعدازاں طالبان کو اقتدار سے بے دخل کر کے اپنے فوجیوں کو براہ راست افغانستان میں تعینات کردیا اور اب افغانستان کی حکومت کو امریکہ کے ساتھ ایک ایسے اسٹراٹیجک معاہدہ کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ یہی وہ فریضہ ہے کہ جسے امریکی فوجیوں نے انجام دیا ہے۔ بہرحال صدر اوباما نے طالبان کو دوبارہ مذاکرات کي دعوت بھي دي ہے۔
[طالبان کو مذکرات کی دعوت دے کرمسٹر اوباما دراصل ایک طرف تو یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ وہ افغانستان میں امن امان کے قیام میں نہایت سنجیدہ ہیں اور دوسرے یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان کوئی تعلق اور رابطہ موجود نہیں ہے۔ طالبان کی ظاہری قیادت بھے یہی ثابت کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہے کہ طالبان اور امریکہ میں کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں ہے اور بقول ان کے یہ تاثر غلط ہے کہ طالبان کو امریکہ نے بنایا تھا]

طالبان کو مذکرات کی دعوت دے کرمسٹر اوباما دراصل ایک طرف تو یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ وہ افغانستان میں امن امان کے قیام میں نہایت سنجیدہ ہیں اور دوسرے یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان کوئی تعلق اور رابطہ موجود نہیں ہے۔ طالبان کی ظاہری قیادت بھے یہی ثابت کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہے کہ طالبان اور امریکہ میں کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں ہے اور بقول ان کے یہ تاثر غلط ہے کہ طالبان کو امریکہ نے بنایا تھا
۔ چنانچہ امریکی صدر اوباما کے اچانک دورۂ کابل کے چند گھنٹے بعد کابل میں زبردست بم دھماکے ہوئے ہیں۔ مبینہ طور پردو خود کش حملہ آوروں نے کابل میں پل چرخی علاقے میں امریکی فوجی اڈے کے پاس خود کش حملے کئے۔ ذرائع کے مطابق ان دو دھماکوں میں سے ایک خود کش تھا اور دوسرا دھماکہ کار بم کا تھا۔ فورا ہی افغان طالبان نے ان بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی۔ افغانستان وزیر داخلہ کا کہنا ہے ان دھماکوں میں چار حملہ آوروں سمیت بارہ افراد ہلاک اور سترہ زخمی ہوئے ہیں۔ پاکستان میں ڈرون حملوں کی شکل میں اور افغانستان میں نیٹو طیاروں کی بمباری کی صورت میں طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنائے جانے کے امریکی فورسز کے دعوؤں پر اب کوئی بھی شخص اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہے کیونکہ ہر ڈرون حملے اور نیٹو طیاروں کی بمباری کے بعد ملبے کے ڈھیر سے خون میں لت پت معصوم بچوں اور خواتین کے بے جان جسموں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ ، شادی بیاہ کی تقریبات کو خاک و خوں میں غلطاں کرنا، مارے جانے والے افغان شہریوں کی لاشوں سے کھیلنا اور احتجاج کی صورت میں فورا معافی مانگ لینا، افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں کی واحد تفریح شمار ہوتا ہے۔ بہرحال مسٹر اوباما کےبیان کی روشنی میں افغان عوام کو سن 2014 تک امریکی فوجیوں کی ایذا رسانیوں اور تفریحا قتل عام کی کاروائیوں کو تو برداشت کرنا ہوگا۔ اس کے بعد نئے شراکت داری کے معاہدے کے تحت امریکی فوجیوں کا رویہ کیا ہوگا اور وہ کس طرح افغان عوام کے ساتھ پیش آئیں گے اس پر تبصرہ کرنا قبل از وقت ہوگا لیکن عراق کے حالات کے پیش نظر یہ ضرور کہا جاسکتا ہے افغانستان پر خوف ہراس اور خودکش حملوں اور بم دھماکوں کے خطرات بدستور منڈلاتے رہیں گے۔
......
/169