اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آل سعود نے تیونس میں انقلاب کی کامیابی کے بعد تیونس کے آمر کو پناہ دی اور مصر میں انقلاب کو ناکام بنانے کے لئے ایڑی چـوٹی کا زور لگایا اور انقلاب کی کامیابی کے بعد سے لے کر اب تک انقلاب مصر کے خلاف نت نئی سازشیں کررہا ہے۔
آل سعود نے انقلاب کے بعد درجنوں مصری شہریوں اور مبارک حکومت کے مخالفین نیز انقلاب کے حامیوں کو مختلف بہانوں سے گرفتار کیا اور ان پر بے بنیاد الزامات لگا کر نمائشی مقدمات چلائی اور انہیں سزائیں سنائی تو احمد الجیزاوی نامی مصری وکیل نے ان مصریوں کا مقدمہ لڑنے کا تہیہ کرلیا اور ان کا قانونی میدان میں دفاع کیا اور جب الجیزاوی عمرہ بجالانے کی نیت سے بلاد الحرمین چلے گئے تو آل سعود نے انہیں گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا اور جب مصری عوام کے احتجاج میں شدت آئي تو آل سعود نے منشیات کے نام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اعلان کیا کہ الجیزاوی کی گرفتاری کا سبب یہ ہے کہ ان سے منشیات کی گولیاں برآمد ہوئی ہیں جبکہ یہ الزام بالکل بے بنیاد ہے۔
مصر میں آل سعود کے حکمران وہابیوں اور سلفیوں کی حمایت کررہا، شام میں دہشت گرد ٹولوں کی حمایت کررہا ہے اور اس سلسلے میں اس نے کروڑوں ڈالر خرچ کئے ہیں۔ مصر میں حزب النور سلفیوں کی جماعت ہے جو انقلاب مصر کی کامیابی سے قبل حسنی مبارک کی آمریت کا ساتھ دے رہی تھی لیکن انقلاب کے بعد اچانک انقلابیوں کا لبادہ اوڑھ لیا اور مصری پارلیمانی انتخابات میں اس جماعت نے پارلیمان کی 25 فیصد نشستیں حاصل کرلیں اور یوں مصر کا انقلاب ناکام بنانے کے لئے آل سعود کو نہایت اہم مواقع میسر آئے ہيں؛ آل سعود کے حکمران بے تحاشا دولت خرچ کررہے ہیں تا کہ مصر سمیت اسلامی عرب ملکوں میں انقلابی لہروں پر قابو پاسکیں اور یہ انقلابی لہر وسیع سطح پر آل سعود کی حکومت کو خطرے سے بچایا جاسکے چنانچہ اب وہ ایک طرف سے تو مسلط فوجی کونسل کے دوست ہیں، پارلیمنٹ میں ان کا بڑا حصہ ہے اور انھوں نے صدارتی امیدوار بھی متعارف کرایا تھا جن کو ان کی بیوی کے امریکی ہونے کی وجہ سے نااہل قرار دیا گیا۔ مصر کے اندر پارلیمان کی پچیس فیصد نشستیں حاصل کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ ود مصر میں تیل کی دولت لٹا لٹا کر انقلاب کو اس کے اصلی راستے سے منحرف کرنا چاہتے ہیں اور یوں مصری عوام اور انقلابی نوجوانوں کے درمیان نئی صورت حال معرض وجود میں آرہی ہے جو آل سعود اور ان کے سلفی مصری دوستوں کی ہزار کوششوں کے باوجود صدارتی انتخابات اور فوجی کونسل کے رخصت ہونے کے بعد، آل سعود کے لئے خوشایند نہ ہوگی لہذا اب آل سعود کے شہزادوں کی کوشش ہے کہ صدارتی انتخابات بھی آل سعود کے مفاد میں ہوں۔
اور ہاں! فوجی کونسل کی اسرائیل سے قریبی دوستی ہے اور وہ آل سعود کی بھی دوست ہے لیکن وہ وہابیت کو مصر میں برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہے کیونکہ وہابی تشدد پسند اور انتہا پسند ہیں چنانچہ فوجی کونسل کی سعودی ـ صہیونیت نوازی بھی زیادہ دیر تک آل سعود کے فائدے میں نہیں ہوگی۔
بہرحال آل سعود کو تشویش ہے بالکل آل صہیون اور آل یہود کی مانند۔آل سعود مصری صورت حال پر فکرمندانہ انداز سے نظر رکھے ہوئے ہیں، مصر میں اخوان المسلمین اقتدار کے قریب ہے اور اخوان المسلمین سعودی عرب میں نفرت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ مصر میں جمہوری عمل شروع ہونے کے بعد سعودی عرب سمیت دیگر عرب ممالک بھی متاثر ہونگے اور آزادی کی نسیم بلاد الحرمین کی جانب بھی ضرور پہنچے گی چنانچہ آل سعود کی کوشش ہے کہ صدارتی انتخابات اور پارلیمانی سیاست پر اثرانداز ہوکر مستقبل میں ایک جمہوری حکومت کے قیام کا سد باب کریں لیکن حال ہی میں اس کو اپنے سفارتکار تک مصر سے نکالنے پڑے ہیں چنانچہ آل سعود کے ہاتھ سے مواقع یکے بعد دیگرے نکل رہے ہیں یا یوں کہئے کہ مصر آل سعود کے قبضے سے نکل رہا ہے اور یہ بات آل سعود کے لئے واقعی باعث تشویش ہے۔
کسی زمانے میں مصر کی اخوان المسلمین کے آل سعود سے قریبی تعلقات تھے لیکن انقلاب مصر کے بعد اخوان نے انقلاب کی حمایت کردی چنانچہ تعلقات خراب ہوگئے اور اب آل سعود مصر میں اخوان کی حمایت نہیں کرتے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اخوان المسلمین کی سرگرمیوں کو بلادالحرمین میں ممنوع قراردیا کیونکہ وہ اخوانیوں سے بھی ڈرتے ہيں کہ کہیں وہ مصر میں جمہوری حکومت قائم نہ کریں اور اسی لئے وہ سلفی اراکین پارلیمان کی حمایت کرتے ہیں اور بس۔ کیونکہ وہ ڈرتے ہیں کہ کہیں اخوان المسلمین کی حکومت بلاد الحرمین میں کسی تبدیلی رونما نہ ہونے پائے۔ لیکن مصر کی سلفی جماعت "النور" بھی بظاہر مصر کے روشن خیال معاشرے میں دیر تک چلنے پر قادر نہ ہوگی چنانچہ آل سعود کو پھر بھی اندرونی بیداری سے خوف محسوس ہورہا ہے ؛ رونما والے واقعات کی خبریں بہرحال آل سعود کے قلمرو میں داخل ہورای ہیں اور لگتا ہے کہ مصر میں دوبارہ آمریت کے پاؤں جمانا ممکن نہيں ہے اور سیاسی عمل کے نتیجے میں یہاں وہ ہرگز نہ ہوگا جو آل سعود اور دوسرے مطلق العنان خاندان توقع رکھتے ہیں لہذا ان کی تشویش سمجھ میں آہی جاتی ہے اور ہم بھی سمجھ سکتے ہیں کہ آل سعود کی طرف سے عراق، شام، مصر، یمن اور بحرین میں سعودی ریشہ دوانیوں کا اصل سبب بلادالحرمین کے اندرونی حالات ہیں وہ پڑوسی عرب ممالک میں سرمایہ خرچ کررہے ہیں تا کہ اندر خیر خیریت ہو لیکن عدم کامیابی کا امکان ان کی تشویش میں مسلسل اضافہ کررہا ہے۔
آل سعود کے قربی رفقائے کار یعنی صہیونی ریاست کے غاصب یہودی حکمرانوں کا بھی یہی حال ہے اور انہی بھی بہت تشویش ہے انھوں نے ان ہی دنوں میں کئی ہزار فوج مصر کی سرحدوں پر تعینات کی ہے اور یہ آل یہودا کی شدید ترین تشویش کی علامت ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اسلامی بیداری کی تحریک سے قکرمندی اور تشویش میں آل سعود اور آل صہیون شریک کیوں ہیں اور دونوں بیداری کی عالمی تحریک کا گلا دبانے کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیوں کررہے ہیں؟ بیدار مسلم امت صہیونیت کے لئے بہت خطرناک اور تشویش ناک ہے لیکن آل سعود کے لئے یہ امت کیوں اتنی خطرناک ہے؟ سعودی حکمران کیا چاہتے ہیں جو اسلامی بیداری کی تحریک عام ہونے کی وجہ سے خطرے میں پڑ سکتا ہے؟ ان سوالات کا جواب قارئین و صارفین خود ہی پانے کی کوشش کریں۔صہیونی ریاست کے حکمرانوں نے اسلامی بیداری کی علاقائی تحریک شروع ہونے کے ایک سال بعد، ایک بار پھر اسلامی بیداری سے اپنی فکرمندی ظاہر کررہے ہیں اور اپنا خوف چھپانے میں ناکام نظر آرہے ہیں۔
غاصب صہیونی ریاست کی فوج کے چیف آف جوائنٹ اسٹاف "گابی اشکنازي" نے صہیونی روزنامے "یروشلم پوسٹ" سے بات چیت کرتے ہوئے اسلامی بیداری کی لہر کو ایک عظیم طوفان قرار دیا اور کہا کہ اسلامی بیداری کی تحریک اور بقول اس کے "عربی بہار" ایک اسلامی طوفان ہے۔
صہیونی جرنیل نے اپنا خوف و ہراس چھپانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اچانک اسلامی بیداری کی لہر کا سامنا کرنا پڑا اور ہم اس کی پیشن گوئی نہیں کرسکے تھے۔
.......
/169
تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:
بلادالحرمین کی مفصل خبریں؛قاہرہ ـ ریاض تعلقات کیمپ ڈیوڈ کے بعد بدترین صورت حال سے دوچار