1 مئی 2012 - 19:30

ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل اورخارجہ پالیسی کمیشن کےجوائنٹ سکریٹری علی باقری اور چین کےوزیرخارجہ ماجاؤشو کی بیجنگ ملاقات کےدوران علاقائی اورعالمی حالات اورایٹمی ٹیکنالوجی کےمعاملےپرگفتگوہوئی ۔ صلاح ومشورےکا یہ سلسلہ جاری رکھتےہوئےعلی باقری آج بیجنگ سے روس کےلئےروانہ ہوجائيں گے۔

ابنا: یہ صلاح ومشورہ ایسےعالم میں جاری ہےکہ ایران اورگروپ پانچ جمع ایک کےدرمیان مذاکرات تئیس مئی کو بغداد میں ہوں گے جبکہ ایران اور آئی اے ای اے کےدرمیان مذاکرات کانیاسلسلہ تقریبا دوہفتےبعد ویانا ميں ہوگا ۔ ایران اور آئی اے ای اےکےدرمیان مذاکرات کامقصد تعاون بڑھانےاور مسائل کےحل کےتناظرميں انجام پارہاہے۔استنبول اجلاس میں بھی طےپایا ہےکہ دوسرے دور کےمذاکرات کوآگےبڑھانے کےلئے طرفین کی جانب سے ایٹمی معاملےسمیت دوسرے امور میں تعاون کےلئےپروگرام تیارکیاجائےاوراسےبغداد اجلاس میں پیش کیاجائے۔ان مذاکرات کااصلی موضوع ایران کی پرامن ایٹمی سرگرمیوں سمیت جامع تعاون کےتناظرمیں مشترکہ اسٹریٹیجک تیارکرنا ہے۔ایران اورگروپ پانچ جمع ایک اب تک مذاکرات کےتین دور انجام دےچکےہيں ۔ مذاکرات کاپہلادور دسمبردوہزاردس میں جینوا میں انجام پایا جبکہ دوسرادور جنوری دوہزارگیارہ میں استنبول میں ہوا اورتیسرادور بھی اسی سال چودہ اپریل کو استنبول میں انجام پایا ۔اس میں کوئی شک نہيں کہ مذاکرات تعمیری اور پائدار تعاون کےلئےہونےچاہئے لیکن ایران کےخلاف امریکہ کی یکطرفہ اورغیرمنطقی پابندیوں کی وجہ سے اس سےپہلےتک، مذاکرات ، ایران کےپرامن ایٹمی سرگرمیوں میں خلاف ورزی کےراستے پرچل رہےتھے اوریہ وہی پالیسی ہے جس پرمغرب امریکہ کی سربراہی ميں برسوں سےبےبنیاد دعوؤں کی بنیاد پرگامزن ہے لیکن اس کاایران کےفیصلوں پرکوئي اثرنہيں ہواہے۔ جن پابندیوں کی امریکی حکام بات کررہے ہيں اس کامقصد ایران کےتیل اور سینٹرل بینک کابائیکاٹ کرناہے یہ ایسےعالم میں ہےکہ مشرق وسطی کی بدلتی ہوئی صورت حال اور علاقےمیں امریکہ کی مداخلت پسندانہ پالیسیوں کی وجہ سے انرجی کی سیکورٹی بری طرح غیرمستحکم ہے۔بہت سےماہرین کاخیال ہےکہ اس بات کےپیش نظرکہ وہائٹ ھاؤس صیہونی لابی کےزیراثرہے ایران کےسلسلےمیں امریکہ کی خارجہ پالیسی اس ملک میں آئندہ سال کےصدارتی انتخابات میں عوام کےووٹوں سےمتمسک ہے ۔اس بنا پر امریکی حکام کےرویےکی پیشگوئی نہیں کی جاسکتی لیکن اس کامطلب یہ نہیں ہےکہ روس اورچین جوسلامتی کونسل کےمستقل رکن بھی ہيں اوریورپی یونین کےتمام رکن جنھیں امریکہ اپنااتحادی کہتاہے، واشنگٹن کی طرح سوچیں ۔سیاسی اوراقتصادی ماہرین کاخیال ہےکہ علاقےکےثبات واستحکام میں ایران کےموثراورکلیدی کردار، انرجی فراہم کرنےوالےاہم ملک اور دوسری وجوہات کےپیش نظر ایران کےسلسلےمیں روس وچین کےساتھ امریکہ کاگہرااختلاف ہے اوراسی وجہ سے بیجنگ اورماسکو امریکہ کی جانب سے ایران کےخلاف غیرمنطقی بہانوں کےذریعے ماحول تیارکئےجانےکےیکطرفہ موقف پربارہا تنقیدکرتےرہےہيں اورامریکی پروپیگینڈوں کےبرخلاف ایران کےساتھ جامع مذاکرات اورسیاسی تعاون پرتاکیدکرتےرہےہيں ۔مجموعی طور پریہ کہاجاسکتاہے کہ ایران چین اور روس کےدرمیان صلاح ومشورےکامقصد سفارتی تعاون کےلئے مشترکہ اسٹرٹیجک کومضبوط بنانا ہے اوریہ مسئلہ دولحاظ سےقابل غور ہے ایک یہ کہ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین اشٹن کی درخواست کاایران کی جانب سےمثبت جواب نےجومذاکرات کےآغاز پرمنتج ہوا، گروپ پانچ جمع ایک کوایسی پوزیشن میں کھڑا کردیاہے کہ جس کاوا‏ضح نتیجہ ایران کےایٹمی حقوق کومحترم سمجھتےہوئےمذاکرات کی میز پرواپس آنےکی صورت میں سامنےآیا ۔ اور اس صلاح ومشورے کادوسرا پہلو علاقائی اوربین الاقوامی مسائل کی سطح پر تعاون کوفروغ دینےمیں مدد کرنا ہے اوریہ مسئلہ بھی علاقےکی موجودہ صورت حال کےپیش نظراہمیت کاحامل ہے۔......./169