29 اپریل 2012 - 19:30

عرب مسائل کے مصری تجزیہ نگار نے مصر میں سعودی سفارتخانے اور قونصل خانوں کی بندش کو نہایت شرمناک عمل قرار دیا اور کہا: آل سعود کے حکمران رائے عامہ کو مشتعل کرکے مصریوں کو آپس میں لڑانا اور اس ملک میں فتنہ انگیزی کرنا چاہتے ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق فکری عبدالمطلب نے کہا: کسی ملک میں کسی ملک کے سفارتخانے کے سامنے عوام کا پرامن مظاہرہ ایک تسلیم شدہ رویہ ہے جو پوری دنیا میں رائج ہے اور جب کسی ملک کے سفارتخانے کے سامنے کسی ملک کے عوام مظاہرہ کریں تو وہ وہ ملک اپنا سفارتخانہ بند نہيں کیا کرتا اور اس ملک کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع نہيں کیا کرتا۔

انھوں نے کہا کہ سفارتخانے اور قونصلخانوں کی بندش در حقیقت ایک قسم کی بلیک میلنگ ہے اور سعودی حکمران اس طرح مصر کی فوجی کونسل کو مصر کے انقلابی نوجوانوں کے خلاف مشتعل کرنا چاہتے ہيں نیز سعودی حکمران بلادالحرمین میں مقیم مصریوں کو بھی مصر کے انقلابی نوجوانوں کے خلاف مشتعل کرنا چاہتے ہیں تا کہ مصر کا انقلاب ناکام ہوجائے۔

فکری عبدالمطلب نے مصر کی حکومت، اور مصر کی وزارت خارجہ پر تنقید کی کیونکہ ان کی طرف سے سعودی عرب میں مصری عوام کے ساتھ ریاض حکومت کی بدسلوکی اور مصری شہریوں کے رنج غم پر مناسب رد عمل نہيں دکھایا ہے۔

انھوں نے کہا کہ موجودہ صورت حال کی ذمہ داری فوجی کونسل، پارلیمان کے اکثریتی اخوانی دھڑے پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ مصر اور سعودی عرب کے تعلقات کی خرابی کے ذمہ دار یہی لوگ ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ایک سعودی جج اور نائب سعودی اٹارنی جنرل مصر میں برائیاں اور بے حیائی پھیلانے والے نیٹ ورک چلانے کے الزام میں گرفتار ہیں چنانچہ آل سعود ان اقدامات کے ذریعے مصر پر دباؤ بڑھا رہا ہے تا کہ ان افراد کو مصری جیلوں سے چھڑوا دے لہذا مصر کو اس حوالے سے ہوشیاری اور دانشمندی سے کام لینا چاہئے اور آل سعود کے مطالبات کے سامنے سرتسلیم خم نہ کرے۔

انھوں نے کہا کہ جب سے مصریوں نے سعودی عرب کی طرف سے اپنے ملک میں پھیلائے جانے والے فساد و فحشاء کے خلاف جدوجہد کا آغاز کیا سعودیوں نے مصر کو بلیک میل کرنے کی کوششوں کا آغاز کیا۔

واضح رہے کہ آل سعود کے ہاتھوں مصری قانوندان احمد الجیزاوی کی گرفتاری پر مصریوں نے آل سعود کے سفارتخانے کے سامنے کئی روز تک مظاہرے کئے اور دھرنے دیئے جس کے بعد آل سعود نے ہفتہ (29 اپریل 2012) کے دن مصر میں اپنے سفارتخانے اور قونصلخانوں کو بند کردیا۔
.......

/169

تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:

بلادالحرمین کی مفصل خبریں؛
قاہرہ ـ ریاض تعلقات کیمپ ڈیوڈ کے بعد بدترین صورت حال سے دوچار