اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرین میں بڑھتی ہوئی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے پیش نظر برطانیہ کے مڈلسیکس کالج آف لاء نے ایک خصوصی سیمینار کا اہتمام کیا ہے۔
اس سیمینار کے شرکاء ے بحرین میں انسانی حقوق کی وسیع اور بے تحاشا خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہوئے انسانی حقوق پامال کرنے والے بحرینی عناصر کے کیس کو بین الاقوامی جرائم کی عدالتوں کے سامنے پیش کرنے اور اس کی پیروی کرنے پر زور دیا اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ بحرینی قوم کے حقوق کے حصول اور انہیں عدل و انصاف دینے کے حوالے سے اپنے فرائض پر عملدرآمد کرے اور آزادی اور برابری کی بنیاد پر معاشرے کی تشکیل نو کے سلسلے میں بحرینی عوام کے عمومی انقلاب میں اپنا کردار ادا کرے۔
اس رپورٹ کے مطابق بحرین میں انسانی حقوق کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں کے پیش نظر، اس سیمینار کے شرکاء کا سب سے اہم مطالبہ یہ تھا کہ غیرجانبدار بین الاقوامی بورڈز کو بحرین میں عوام کے قتل عام، ٹارچر، قومی اور مذہبی امتیازی پالیسیوں اور رویوں، اور آل خلیفہ کے ہاتھوں آزادیاں کچلے جانے جیسے واقعات کے بارے میں تحقیقات کرنے کی اجازت دی جائے اور غیرجانبدار بین الاقوامی بورڈز میں بحرین میں ہونے والے مظالم و جرائم کے سلسلے میں موصولہ مستند اور دستاویزی رپورٹوں کا جائزہ لیا جائے۔
سیمینار کے شرکاء نے آل خلیفہ کی طرف سے ان رپورٹوں کی تردید کو مسترد کیا اور کہا کہ ظالم اور تشدد پسند حکمرانوں کی طرف سے تردید کی کوئی قانونی وقعت نہیں ہے۔
مڈلسیکس یونیورسٹی کے لاء ڈپارٹمنٹ کے سربراہ جوشوا کاسٹیلینو "Prof. Joshua Castelnio" نے کہا: مغرب کی پالیسیوں پر دہرا طرز سلوک مسلط ہے؛ لہذا ـ ایسے حال میں کہ دنیا کی قوموں کو انسانی حقوق سے بہرہ مند ہونے کا حق ہے ـ بحرین کی حکومت جیسی آمر حکومتوں نے ان سے یہ حق چھین لیا ہے؛ اس میں کوئی شک نہيں ہے کہ بحرینی عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ جو نظام حکومت وہ خود چاہتے ہیں اسی کو اپنے ملک میں منتخب اور قائم کریں۔
مقررین نے بین الاقوامی اداروں پر زور دیا کہ وہ بحرین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مرتکب عناصر نیز عوام پر تشدد کرنے اور قیدیوں کو ٹارچر کرکے ان سے جھوٹے اعترافات لینے والے افراد پر عالمی عدالتوں میں مقدمہ چلاکر ان کو قرار واقعی سزا دلوائیں۔
مڈلسیکس لاء یونیورسٹی میں قانون کے استاد اور آئرلینڈ میں انسانی حقوق مرکز کے سربراہ "پروفیسر ولیم اے شااس Professor William A. Schabas" نے اس موقق پر خطاب کرتے ہوئے کہا: وہ ممالک جہاں بحرین کی طرح کے جابر اور متشدد اور وحشی حکمران مسلط ہیں وہاں لوگوں کو اپنے حقوق حاصل کرنے کے لئے بھاری تاوان ادا کرنا پڑتا ہے اسی وجہ سے ہم ملت بحرین کے ساتھ دوسروں سے کہیں زیادہ یکجہتی کا اعلان کرتے ہیں کیونکہ یہ ملت اپنے حقوق حاصل کرنے کے لئے جانفشانی کررہی ہے اور ہم سب کو جاننا چاہئے کہ تاریخ ملتوں کے ساتھ ہے اور تاریخ ملت بحرین کو ایک مظلوم قوم کی حیثیت سے اپنے سینے پر ثبت کرے گی۔
سیمینار کے شرکاء نے امریکہ اور برطانیہ کی طرف سے اپنے قلیل المدت مفادات کو بحرینی قوم کے بنیادی حقوق پر ترجیح دینے کے عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا اور ان سے مطالبہ کیا کہ بحرین کے مسئلے کو اسٹراٹیجک نقطۂ نگاہ سے دیکھیں اور اس کے لئے اپنے سیکورٹی مشیران کو بحرین سے واپس بلوائیں تا کہ وہ آل خلیفہ کی سیکورٹی ایجنسیوں کے جرائم میں شرکت نہ کرسکیں!۔
بحرین کےمستعفی رکن پارلیمان "علي الاسود العلي" نے اس سیمینار کے موقع پر کہا: جو کچھ بحرین میں گذر رہا ہے اس کو دنیا والوں تک پہنچانے کے لئے بیشتر ابلاغی و تبلیغی کام کی ضرورت ہے۔
انھوں نے برطانوی وزیر اعظم "ڈیوڈ کیمرون" اظہار خیال کی طرف اشارہ کیا ـ جنھوں نے کہا تھا: "بحرین شام کی مانند نہیں ہے"ـ اور کہا: بحرین شام کی طرح نہيں ہے کیونکہ بحرین میں نظام حکومت کے مخالفین مسلح نہيں ہونا چاہتے اور مغربی و عرب ممالک جس طرح کہ شام کے مخالفین کو ہتھیار سمگل کرکے پہنچاتے ہیں، بحرین میں عوام کو کوئی مدد نہيں پہنچارہے ہیں۔
مڈلسیکس لاء یونیورسٹی میں منعقدہ بین الاقوامی سیمینار کے شرکاء نے بحرینی خواتین کے کردار کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بحرینی خواتین تشدد اور ظلم و ستم سہنے اور سرکاری، نیم سرکاری اور غیرسرکاری اداروں سے بے روزگار ہونے کا خطرہ مول لے کر بحرینی انتفاضہ کی پشت پناہی کررہی ہیں۔
انھوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ بحرینی عوام کی حمایت کے سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرے۔
.......
/169
تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:
انقلاب کرامت بحرین کا 440واں دن؛ متنوع رپورٹیں؛
آل خلیفہ کے خلاف لاکھوں افراد کا احتجاج / عبدالہادی الخواجہ کہاں ہیں؟