28 اپریل 2012 - 19:30

آل سعود کی جارح افواج کے حمایت یافتہ خلیفی گماشتوں نے عوام کے پرامن مظاہرے کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے درجنوں بحرینی شہریوں کو زخمی کردیا ہے۔ مظاہرین شہید صلاح عباس کی شہادت پر آل خلیفہ حکومت کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق: مظاہرین نے اپنے جائز مطالبات کے حق میں نعرے لگائے جس پر آل خلیفہ کے گماشتوں نے عوام پر فائرنگ کھول دی اور فائرنگ و تشدد کے نتیجے میں درجنوں نہتے افراد زخمی ہوگئے۔

دریں اثناء آل خلیفہ کے ہاتھوں پرامن مظاہروں میں شرکت کی پاداش میں بے دخل کئے جانے والے سرکاری و نیم سرکاری اداروں کے ملازمین نے بھی احتجاجی مظاہرہ کیا اور ان کے کام پر لوٹانے کے سلسلے میں آل خلیفہ کے بادشاہ کے طرف سے ديئے گئے وعدوں پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا۔

آل خلیفہ حکومت نے فروری 2011 کو عوامی انقلابی تحریک کے آغاز سے اب تک سرکاری و غیر سرکاری اداروں اور حتی نجی کمپنیوں کے ہزاروں شیعہ ملازمین کو برخاست کررکھا ہے اور یہ ملازمین کی برطرفی آل خلیفہ کی "بھوک کے ذریعے سرتسلیم خم کرنے پر مجبور کرو" کی پالیسی کا حصہ ہے:

بحرین/ نظام حکومت متوازن نہیں رہا، عوام پر بھوک مسلط کی جارہی ہے
اس غیر انسانی، غیر اسلامی اور وحشیانہ اور قرون وسطائی پالیسی کا اعلان آل سعود کے حمایت یافتہ خلیفی وزیراعظم خلیفہ بن سلمان آل خلیفہ نے 1 اپریل 2011 کو کیا تھا۔ 42 سال سے بحرینی قوم پر مسلط اور خلیفی فرمانروا حمد بن عیسی آل خلیفہ کے چچا خلیفہ بن سلمان آل خلیفہ نے کہا تھا کہ خلیفی حکومت قوم کو بھوک میں مبتلا کرکے کچل دے گی۔

آل خلیفہ وزیر اعظم کی قرون وسطائی دھمکیاں: ہم قوم کو بھوکا رکھ کر کچل دیں گے
ادھر بحرینی عالم دین علامہ الغریفی نے کہا ہے کہ آل خلیفہ کی حکومت مکارانہ انداز سے کوشش کررہی تھی کہ بحرین کی بحرانی کیفیت کو خوبصورت سا لبادہ پہنا کر دنیا والوں کو بتادیں کہ بحرین میں سب اچھا ہے لیکن وہ اپنی اس مذموم اور مکارانہ چال میں ناکام ہوچکی ہے۔ 

.......

/169

تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:

انقلاب کرامت بحرین کا 440واں دن؛ متنوع رپورٹیں؛
آل خلیفہ کے خلاف لاکھوں افراد کا احتجاج / عبدالہادی الخواجہ کہاں ہیں؟