ابنا: انھوں نے آج تہران میں ملکی و غیر ملکی نامہ نکاروں سے گفتگو کرتے ہوئے ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے بغداد مذاکرات سے قبل تہران کے خلاف بعض پابندیوں کے ممکنہ خاتمے کے بارے میں کہا کہ مغربی ممالک اگر اپنی غیر قانونی پابندیوں کے خاتمے کا کوئی فیصلہ کرتے ہیں تو یہ صحیح راہ میں ایک مثبت قدم کا آئینہ دارہوگا جو اس بات کو بھی ثابت کریگا کہ مغربی ممالک ایرانی قوم کے خلاف اپنے غیر قانونی اقدامات سے دستبردار ہونا چاہتے ہیں ۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے عراق کے وزیر اعظم جناب نوری المالکی کے دورۂ تہران کے بارے میں بھی کہا کہ ان کا یہ دورہ قابل ذکر اہمیت کا حامل رہا اور اس دورے میں دو طرفہ مسائل اور علاقائی و بین الاقوامی تبدیلیوں کے بارے میں تعمیری مذاکرات ہوئے ۔
وزارت خارجہ کے ترجمان جناب رامین مہمان پرست نے عراق کے ساتھہ مختلف شعبوں میں ایران کے مشترکہ تعاون کے ذرائع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سنہ دو ہزار گیارہ میں دونوں ملکوں کے تجارتی تعلقات کی شرح لگ بھگ نو ارب سّتر کروڑ ڈالر رہی اور امید کی جاتی ہے کہ اس سال یہ شرح بارہ سے پندرہ ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی ۔
انھوں نے کہا کہ عراق اپنے حقیقی اقتدار کی طرف بڑھ رہا ہے اور یہ ملک جتنا زیادہ مقتدر و مستحکم ہوگا مشترکہ تعاون کی بدولت علاقے میں اتنا ہی زیادہ امن و استحکام کا مشاہدہ کیا جائے گا ۔ جناب رامین مہمان پرست نے ایران کے وزیر خارجہ کے دورۂ تیونس کے حوالے سے کہا کہ یہ دورہ دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعلقات و تعاون کے فروغ کا باعث بنے گا اور اس دورے میں مختلف شعبوں میں تعاون کی کئی دستاویزات پر دستخط کئے جائیں گے ۔
ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے فرانس کے صدارتی انتخابات کے سلسلے میں بھی کہا کہ انتخابات کے پہلے مرحلے میں سرکوزی کے حریف امیدوار کے نام فرانسیسی عوام کے ووٹوں سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ فرانس کے عوام اپنے ملک کے موجودہ صدر کی پالیسیوں کے خلاف ہیں ۔
انھوں نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ کسی بھی ملک کی پالیسیوں کے بارے میں اس ملک کے عوام ہی بہترین فیصلہ کرسکتے ہیں کہا کہ فرانس کے پہلے مرحلے کے انتخابات کے نتائج سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ فرانس کی پالیسیوں کا اس ملک کے عوام نے خیر مقدم نہيں کیا ہے ۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ فرانس کے پہلے مرحلے کے انتخابات کے نتائج سے اس بات کی بھی نشاندہی ہوتی ہے کہ مشرق وسطی اور کم از کم ایران کے بارے میں سرکوزی کی پالیسی غلط رہی ہے جس کے نتیجے میں فرانسیسی عوام کو نقصان اٹھانا پڑا ہے ۔
انھوں نے ایران مخالف پروپیگنڈے اور تہران کے خلاف سعودی حکام کے حالیہ بیانات کا ذکر کرتے ہوئے علاقائی ملکوں کے حکام کو اس بات کا مشورہ دیا کہ وہ کسی بھی طرح کا قدم اٹھانے اور بیان دینے میں زیادہ سے زیادہ سوجھہ بوجھہ کا مظاہرہ کریں ۔
ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے تاکید کے ساتھہ کہا کہ علاقے کی حساّس صورت حال اور اسلامی بیداری کی لہر کے بعد علاقے میں باہمی تعاون نیز علاقائی ملکوں کے تعاون سے امن و استحکام کے قیام کے پیش نظر صیہونی حکومت کو اس وقت سخت اور دشوار حالات کا سامنا ہے جو اپنی پالیسیوں کے خلاف قوموں میں پائی جانے والی نفرت کا احساس کررہی ہے اسلئے وہ ایسے ہتھکنڈے کی تلاش میں ہے کہ جس کے ذریعے علاقے کے ملکوں کے درمیان اختلافات و کشیدگی کی آگ بھڑکائی جاسکے ۔.......
/169