23 اپریل 2012 - 19:30

صہیوني ریاست کے وزير خزانہ نے، مصر کی جانب سے گيس کي سپلائي کا معاہدہ منسوخ کئے جانے پر تشويش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے پورے اسرائيل ميں توانائي کي قلت پيدا ہوجائے گي۔

ابنا: شاؤل موفاز نے کہا ہے  کہ يہ اقدام مصر اور اسرائيل کے تعلقات ميں کمي اور دونوں فريقوں کے درميان امن معاہدے کي کھلي خلاف ورزي ہے۔

اسرائيل کے اعلي حکام نے خبردار کيا ہے کہ اس معاہدے کي منسوخي سے رواں سال کے موسم گرما ميں انرجي کي شديد قلت ہو جائے گي۔

واضح رہے کہ مصر کي قومي گيس کمپني نے اتوار کے روز اعلان کيا ہےکہ صہیوني ریاست کي جانب سے گيس کي سپلائي کے معاہدے کي بعض شقوں کي پابندي نہ کيے جانے کے سبب اسرائيل کے ساتھ ہونے والے اس معاہدے کو منسوخ کر ديا ہے۔

مصر کي قومي گيس کمپني کے ايک عہديدار محمد شعيي نے کہا ہے کہ اسرائيل کي جانب سے گيس معاہدے کي بعض شقوں کي خلاف ورزي کے سبب جمعرات کے روز يہ معاہدہ منسوخ کر ديا گيا ہے۔

واضح رہے کہ مصر سے صہیوني ریاست کو گيس کي سپلائي کرنے والي پائپ لائن پر مصر ميں انقلاب کے بعد سے مسلسل حملے ہو رہے ہيں۔.......

/169