اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا کی رپورٹ کے مطابق صلاح عباس حبیب آل موسی، جمعہ کے پرامن احتجاج کے دوران آل خلیفہ کے گماشتوں کے ہاتھوں اغوا اور تشدد کے بعد گولی لگنے سے شہید ہوگئے تھے اور ان کے اہل خانہ نے حکومت سے ان کی میت حوالے کرنے کی درخواست کی تو اٹارنی جنرل کے دفتر کے اہلکاروں نے اہل خانہ سے کہا کہ ملک میں فارمولا ون کے مقابلے ہورہے ہيں اور پوسٹ مارٹم کے لئے کوئی ڈاکٹر دستیاب نہیں ہے (!) لہذا یہ کاروائی کار ریس کے مقابلوں کے بعد ہی ممکن ہوگی۔
یاد رہے کہ جمعہ کے روز ہونے والی ریلی فارمولا ون پر احتجاج کی غرض سے ہوا تھا۔ اور صلاح آل موسی کو اسی دوران گولی مارکر شہید کیا گیا اور 14 فروری انقلابی اتحاد نے عوام سے اپیل کی کہ شہید کے جلوس جنازہ میں بھرپور شرکت کریں اور یہ بات آل خلیفہ حکومت کے خوف و وحشت کا سبب بن گئی چنانچہ وہ مختلف حیلوں بہانوں سے شہید کی میت اہل خانہ کے حوالے کرنے سے انکار کررہی ہے۔
شہید کے رشتہ دار "علي القطّان" نے مزید کہا کہ اٹارنی جنرل کے آفس نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ اہل خانہ کو شہید کی میت کا دیدار کرایا جائے گا لیکن حکومت نے ان کے اہل خانہ کو ان کی لاش دیکھنے سے بھی منع کیا۔.......
/169
تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:
انقلاب کرامت کا 434واں دنبحرین میں فارمولا ون یا فارمولا بلڈ/ انقلابی راہنما کی شہادت