اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا کی رپورٹ کے مطابق فاضل عباس نے کہا: آل خلیفہ حکومت ایک عرصے سے اپوزیشن راہنماؤں کے قتل کا ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اور اس سے قبل خلیفی حکومت نے "عباس الشيخ" کو السترہ میں اور صحافت کی دنیا میں انقلاب بحرین کے فعال راہنما "احمد اسمعیل" کو سلماباد میں قتل کیا۔
انھوں نے کہا: شہید صلاح عباس حبیب نے متعدد بار خلیفی حکومت کے خلاف پر امن مظاہروں کی قیادت کی تھی جس کی وجہ سے وہ بہت مشہور ہوچکے تھے چنانچہ آل خلیفہ حکومت نے ریاستی دہشت گردی کا ثبوت دیتے ہوئے ان کو قاتلانہ حملے میں شہید کردیا۔
انھوں نے کہا آل خلیفہ حکومت نے ابتدائے انقلاب ہی سے انقلاب بحرین کا جواب گولی اور تشدد فوجی قوت استعمال کرکے دیا ہے اور آل خلیفہ کے گماشتے ایک عرصے سے بحرین کے مختلف شہروں میں انقلابی راہنماؤں پر قاتلانہ حملے کررہے ہيں۔
فاضل عباس نے کہا کہ بحرین کی سیاسی جماعتیں کسی صورت میں بھی شہداء کا خون رائگاں نہيں جانے دیں گی اور وہ دن ضرور آئے گا جب ہم عوام کے قاتلوں کو ان کے انسانیت کش جرائم کی بنا پر کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔
سیکریٹری جنرل قومی ڈیموکریٹک پارٹی نے کہا: آل خلیفہ نے بحرین کی انقلابی فضا کو الٹ پلٹ کر دکھانے فارمولا ون کار ریس کا اہتمام کیا ہے اور وہ دنیا کو جتانا چاہتا ہے کہ گویا بحرین میں سب ٹھیک ہے اور حالات پرسکون ہیں اور اس ملک میں کوئی واقعہ رونما نہيں ہورہا لیکن صلاح عباس حبیب آل موسی کی شہادت نے ثابت کردیا کہ خلیفی حکومت جھوٹ بول رہی ہے۔
انھوں نے کہا: کار ریس کو کوریج دینے والے بیرونی نامہ نگار عوامی ریلی کے بعد بحرین میں رونما ہونے والے واقعات کے میڈیا بائیکاٹ سے حیرت زدہ ہوگئے اور انہيں معلوم ہوا کہ بحرین پر مسلط مطلق العنان حکمران کس طرح عوام کو کچل رہے ہیں۔
"صلاح عباس حبیب آل موسی" 14 فروری انقلابی اتحاد کے رکن تھے جنہيں جمعہ کے روز آل خلیفہ کے گماشتے اغوا کرکے لے گئے ان پر تشدد کیا اور آخر کار ان کو گولی مار کر شہید کردیا۔ .......
/169
تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:
انقلاب کرامت کا 434واں دنبحرین میں فارمولا ون یا فارمولا بلڈ/ انقلابی راہنما کی شہادت