اہل البیب (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق روزنامہ جنگ کے ویب بیس پر کمانڈرپشاور ليفٹيننٹ جنرل خالد رباني کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ:
"دہشت گردي اب قصہ پارينہ بنتي جارہي ہے اور حالات بہتري کي جانب گامزن ہيں. کور کمانڈر پشاور ميں نيشنل رينکنگ اوپن گالف چيمپئن شپ کے بہترين کھلاڑيوں ميں تقسيم انعامات کي تقريب کے موقع پر ميڈيا سے گفتگو کررہے تھے. ليفٹيننٹ جنرل خالد رباني نے کہا کہ دہشت گردي قصہ پارينہ بنتي جارہي ہے. ان کا کہنا تھا کہ پشاور ميں کھيلوں کے مقابلوں کے انعقاد سے لوگوں کا ذہن تبديل ہوا ہے اور حالات بہتري کي جانب بڑھ رہے ہيں. خالد رباني نے گالف چيمپئن شپ ميں کھلاڑيوں کي کارکردگي کو سراہا".
کور کمانڈر کا یہ دعوی ایسے حال میں سامنے آیا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخواہ کے وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف متفقہ لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے اور چونکہ صوبے کے وزير اطلاعات بھی ہیں اور دہشت گردی کے اس طوفان میں اپنے اکلوتے بیٹے کی قربانی بھی دے چکے ہیں لہذا ان کی بات زیادہ وزنی معلوم ہوتی ہے اور کورکمانڈر کی یہ بات درست نظر نہیں آتی کہ "دہشت گردہ قصہ پارینہ بن گئی"۔
خبر دیکھئے:
دہشتگردي کيخلاف متحدہ لائحہ عمل تشکيل ديا جانا چاہئے، مياں افتخار حسين
برمنگھم … وزير اطلاعات برائے خيبر پختونخوا مياں افتخار حسين نے کہا ہے کہ طالبان کے اچھے يا برے ہونے کے فلسفے سے باہر نکل کر دہشتگردي کے خلاف متحدہ لائحہ عمل تشکيل ديا جانا چاہئے. برمنگھم ميں عوامي نيشنل پارٹي کي جانب سے پارٹي کے باني رہنماوں باچا خان اور خان عبدالولي خان کي ياد ميں منعقدہ ريلي سے خطاب کرتے ہوئے مياں افتخار حسين کا کہنا تھا کہ طالبان دہشت گردي کے خلاف جنگ اس وقت تک جاري رہے گي جب تک جنگي جنون کي جڑيں مکمل طور پر کاٹ نہيں دي جاتيں. ان کا کہنا تھا پاکستان، افغانستان اور امريکا دہشتگردي کے خلاف متحد ہوجائيں. مياں افتخار حسين نے کہا کہ امريکا کے قطر ميں طالبان کے ساتھ مذاکرات ناکام رہے. مياں افتخار حسين نے صدر زرداري اور ان کي حکومت کو خراج تحسين پيش کرتے ہوئے ان کو غيرتمند اور پرعزم انسان قرار ديا. ان کا مزيد کہنا تھا کہ دنيا بھر ميں آج پشتون عزت کي نگاہ سے ديکھے جاتے ہيں تو اس ميں باچا خان اور عبدالولي خان کي کوششوں کا ہي عمل دخل ہے۔
یہ تو رہی نظری سی بات اب عمل میں بھی دیکھتے ہیں کہ جناب جنرل صاحب کی بات کتنی حد تک صحیح ہے؟ مثال کے طور پر آج ہی کے اخبار کی ایک خبر یہ تھی کہ پشاور کے نواح میں بڈھ بیر کے مقام پر ایک کلینک کو دھماکے سے اڑا دیا گیا ہے:
دیکھئے:
پشاور :بڈھ بير ميں کلينک کوبم سے تباہ کرديا گيا
پشاور کے نواحي علاقے بڈھ بير ميں کلينک کوبم سے تباہ کرديا گيا.پوليس کے مطابق واقعہ تھانہ بڈھ بير کي حدود ميں سليمان خيل کلي ميں پيش آيا. شرپسندوں نے رات گئے بارودي مواد مثل خان نامي ڈاکٹر کے کلينک کے باہر نصب کررکھا تھا جسے ريموٹ کنٹرول سے تباہ کيا گيا. دھماکے سے کلينک تباہ ہوا تاہم کوئي جاني نقصان نہيں ہوا. پوليس کي تحقيقاتي ٹيموں نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرکے تحقيقات کا آغاز کرديا ہے.
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ دہشت گردی قصہ پارینہ نہیں بنی ہے بلکہ جاری و ساری ہے چنانچہ اپنی خواہش کو زمینی حقیقت بنا کر پیش کرنا زیادہ معقول نظر نہیں آتا۔ اورکزئی ایجنسی میں باقاعدہ جنگ ہورہی ہے، وزیرستان میں حتی سرکاری اداروں کے اہلکار راتوں کو اپنی عمارتوں سے باہر نکلنے کا رسک نہیں لے سکتے، پاراچنار پشاور شاہراہ پر مسلسل حملے ہورہے ہیں اور اب تک کئی دھماکے ہوئے ہیں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی صورت حال بہتر نہیں ہوئی گوکہ بعض لوگ تو فوج کے ذیلی اداروں کی تحویل میں قتل ہو چکے ہیں جس کو صحافتی ادب میں ریاستی دہشت گردی کا نام دیا جاتا ہے لیکن طالبان کے عنوان سے تمام کالعدم دہشت گرد ٹولے بھی فعال اور سرگرم نظر آرہے ہیں۔ تازہ ترین واقعے میں پشاور اور ڈیرہ اسماعیل خان کے کئی اسکولوں کی عمارتوں کے قریب دھماکے کئے گئے ہیں۔
دیکھئے:
پشاور، ڈي آئي خان:اسکولوں کے قريب دھماکے، عمارتوں کو نقصان
پشاور اور ڈيرہ اسماعيل خان ميں اسکولوں کے قريب دھماکے ہوئے جن سے اسکولوں کي عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے، تاہم کوئي جاني نقصان نہيں ہوا ہے.تفصيلات کے مطابقپشاورکے نواحي علاقے متھرا ميں نامعلوم شرپسندوں نے ايک اور پرائمري اسکول کو دھماکہ خيز مواد سے اڑاديا.پوليس نے ايک بم کو ناکارہ بناديا. پوليس ذرائع نے بتايا کہ نامعلوم شرپسندوں نے پہلے سے اسکول کي عمارت کے قريب بارودي مواد کو دو جگہوں پرنصب کيا تھا. جوعلي الصبح دھماکے سے اڑگيا جس سے پرائمري اسکول کي عمارت تباہ ہوگئي. پوليس ذرائع کا کہنا ہے کہ اسکول کي عمارت کے قريب دوسري جگہ رکھے جانے والے بارودي مواد کو ناکارہ بناديا گيا ہے.پوليس کا کہنا ہے کہ نامعلوم شرپسندوں کے خلاف مقدمہ درج کرليا گيا ہے.دريں اثناء ڈيرہ اسماعيل خان ميں سرکاري اسکول کو بارودي مواد کا دھماکا کرکے اڑا دياگيا. ليکن کوئي جاني نقصان نہيں ہوا جبکہ ايک بم کو ناکارہ بنادياگيا.پوليس کے مطابق ڈيرہ ٹاو?ن شپ ميں رات گئے سرکاري مڈل اسکول کو نامعلوم افراد نے بارودي مواد سے اڑا ديا. جس سے اسکول کي چھت گر گئي اور تين کمرے مکمل تباہ ہوگئے ليکن کوئي جاني نقصان نہيں ہواجبکہ دوسرے بم کو ناکارہ بناديا گيا. بم ڈسپوزبل اسکواڈ کے انچارج عنايت اللہ کے مطابق بم 18 کلو گرام وزني تھا.واقعے کے بعد پوليس نے ملزمان کي تلاش شروع کردي ہے.
۔۔۔۔۔
/110