ابنا: موصولہ خبروں ميں کہا گيا ہے يہ مظاہرے تيل سے مالا مال مشرقي علاقے القطيف ميں ہوے جہاں شيعہ مسلمانوں کي اکثريت ہے ليکن انہيں اب تک زندگي کي بنيادي سہولتوں سے بھي محروم رکھا گيا ہے۔
مظاہرين نے اپنے ہاتھوں ميں شاہي سيکورٹي فورس کے ہاتھوں شہيد ہونے والوں اور جيلوں ميں بند سياسي قيديوں کي تصويريں اٹھار رکھي تھيں اور وہ اپنے مطالبات کي تکميل تک احتجاج جاري رکھنے کے حق ميں نعرے لگا رہے تھے۔
مظاہرين ملک ميں بنيادي اصلاحات کي انجام دھي، مذہبي بينادوں پر جاري تفريق کا سلسلہ ختم کئے جانے اور مساوي شہري حقوق ديئے جانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
خطے کے ديگر ملکوں ميں اسلامي بيداري کي تحريک شروع ہونے کے فورا بعد سعودي عرب کے مشرقي علاقوں کے لوگوں نے بھي اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھانا شروع کردي ہے اور ملک سے آمريت کے خاتمے کا مطالبہ کررہے ہيں۔
آل سعود خاندان کي حکومت عوام کے مطالبات کو نظر انداز کرتے ہوئے جمہوري مظاہروں کو طاقت کے بل پر کچلنے کي کوشش کررہي ہے جس پر انساني حقوق کي تنظيموں نے کڑي نکتہ چيني کي ہے۔.......
/169