19 اپریل 2012 - 19:30

پاکستان کی مسلح فوج کےسربراہ جنرل کیانی نے ہندوستان کے ساتھہ کشمیر سمیت مختلف مسائل پر مذاکرات کی خواہش ظاہر کی ہے۔

ابنا: انھوں نے کل اپنے ایک بیان میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان پرامن بقائے باہمی کی ضرورت پر تاکید کی ۔ یہ درخواست پاکستان کی وزیر خارجہ کے اس بیان کے بعد کی گئی کہ ان کا ملک ہندوستان کا مقابلہ کرنے کے اپنے روائتی افکار پر عمل پیرا نہیں رہے گا ۔ حنا ربانی کھر نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ پاکستان اپنی سیاسی زندگی کے نئے مرحلے میں داخل ہوگيا ہے تاکید کے ساتھہ کہا کہ اسلام آباد ہندوستان کا مقابلہ کرنے کے اپنے روائتی افکار پر عمل پیرا نہیں رہے گا ۔

پاکستان کی وزیر خارجہ نے اخبار ہندوستان ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک ہندوستان پر ماضی کی نسبت کہیں زیادہ اعتماد کرتا ہے اور امید کی جاتی ہے کہ مسئلۂ کشمیر کا ہندوستان و پاکستان کے مذاکرات کے عمل پر منفی اثر نہیں پڑیگا ۔ حنا ربانی کھر کے اس موقف سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ اسلام آباد کے نقطۂ نظر سے دو طرفہ اقتصادی تعاون کے فروغ کے ساتھہ ساتھہ جو پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کے دورہ ہندوستان سے اور زیادہ مضبوط ہوا ہے مسئلۂ کشمیر کا حل بھی ضروری ہے ۔ اسلئے کہ اس علاقے کا بحران کہ جس کی بناء پر دونوں ملکوں کے درمیان دوبار جنگ بھی ہوچکی ہے گذشتہ چھے عشروں سے زائد عرصے سے دونوں ملکوں کے تعلقات متاثر کئے ہوئے ہے ۔

اس رو سے پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے ہندوستان کے وزیر اعظم منموہن سنگھ کے آئندہ دورہ اسلام آباد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دئے جانے سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ نئی دہلی کے بارے میں اسلام آباد کی پالیسی شّفاف رہی ہے اور ہم اختلافات کے حل اور امن کی برقراری کیلئے ہندوستان کی ہر کوشش کا مثبت جواب دیتے ہیں ۔

پاکستان کی وزیر خارجہ کے بقول نئی دہلی اور اسلام آباد کے مسائل کو فوجی نظر سے نہیں دیکھا جانا چاہئے بلکہ اس نظرئے کو تبدیل کرکے ان مسائل کو سیاسی نظر سے دیکھے جانے کی ضرورت ہے ۔ پاکستان کے سیاسی و فوجی حکام کا یہ موقف میزائیل توانائی بڑھانے کے ہندوستان کے جاری پروگرام پر ایک قسم کا رد عمل ہے ۔ ہندوستان کے ساتھہ مذاکرات جاری رکھنے اور سیاسی طریقے سے اختلافات حل کرنے پرپاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر اور مسلح افواج کے سربراہ جنرل کیانی کے بیانات، ایسی حالت میں سامنے آئے ہیں کہ ہندوستان نے آج اپنے اس اگنی پانچ بلسٹیک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے کہ جس کا اس نے تجربہ کرنے کا پہلے ہی اعلان بھی کردیا تھا ۔

البتہ پاکستان کے حکام کی نظر میں ہندوستان کی جانب سے جاری یہ پالیسی ہتھیاروں کی دوڑ میں شدت پیدا کرنے کے علاوہ دونوں ملکوں کے درمیان امن کا عمل سرد خانے میں چلےجانے کی راہ ہموار کرے گا ۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ 1947 میں ہندوستان اور پاکستان کی آزادی کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات پر ایسی صورت حال حکمفرما رہی کہ عملی طور پر جس کی بناء پر دہشتگرد گروہوں کے پروان چڑھنے کے علاوہ جو نئی دہلی اور اسلام آباد کے درمیان کشیدگی سے ہمیشہ غلط فائدہ اٹھاتے رہے ہیں اور کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے ۔ علاوہ ازیں ایک دوسرے کے مقابلے میں دفاعی طاقت کو مضبوط بنانے کیلئے ہندوستان اور پاکستان کی جانب سے کئے جانے والے بے تحاشہ فوجی اخراجات اس بات کا باعث بنے ہیں کہ انھیں ترقی اور اقتصادی و سماجی مسائل کے حل کے منصوبوں پر عملدرآمد میں بہت زیادہ دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے کہ جس کا نتیجہ بھی ان دونوں ملکوں میں غربت بڑھنے کے علاوہ اور کچھہ نہیں نکلا ہے جیساکہ اس وقت جنوبی ایشیاء کے علاقے میں غربت کی شرح اتنی ہی زیادہ ہے کہ یہ مسئلہ ہندوستان اور پاکستان دونوں ہی ملکوں کیلئے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے سیاسی و فوجی حکام ،کشیدگی کے خاتمے اور بنیادی مسائل منجملہ مسئلۂ کشمیر کے حل کیلئے سیاسی طریقے اختیار کئے جانے کی پالیسی کے ساتھہ ہندوستان کے ساتھہ اعتماد کو زیادہ سے زیادہ مستحکم بنائے جانے کے خواہاں ہیں مگر ہندوستان کی جانب سے اگنی پانچ نامی انٹر کونٹینینٹل میزائیل کے تجربے سے جو ایٹمی وار ہیڈ حمل کرنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے نہ صرف جنوبی ایشیاء میں سیکیورٹی کے مسائل بڑھیں گے بلکہ چین کو بھی ہندوستان کے ساتھہ ہتھیاروں کی دوڑ میں آگے بڑھنے کی ترغیب ملے گی ۔ .....

/169