ابنا: اٹلي کي وزارت محنت کي رپورٹ کے مطابق نئے قانون پر عمل در آمد سے پينسٹھ ہزار ايسے مزدور بھي متاثر ہوں گے جو ريٹائر ہونے والے ہيں جنہيں نئے قانون اور ريٹائرمنٹ کي عمر ميں اضافے کي وجہ سے نوکري جاري رکھني ہوگي تاہم اٹلي ميں بے روزگاري کي وجہ سے انہيں پينشن سے محروم کر ديا گيا ہے۔
دوسري طرف يورپ کے اقتصادي ترقي و تعاون کے ادارے نے حاليہ دنوں ميں اعلان کيا ہے کہ اٹلي کا معاشي مستقبل تار يک ہے اور ايسي کوئي علامت نظر نہيں آ رہي ہے جس سے يہ علم ہو کہ مستقبل قريب ميں ملک کے معاشي حالات ميں بہتري پيدا ہوگي۔
رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ اٹلي کي حکومت کي جانب سے معاشي کفايت شعاري کي پاليسيوں اور اس کے بعد بے روزگاري اور سخت حالات کي وجہ سے سن دو ہزار بارہ کے آغاز سے اب تک اٹھارہ اطالوي شہري خودکشي کر چکے ہيں يہ ايسے حالات ميں ہے کہ اٹلي کے ٹيکس دينے والے شہريوں کے حقوق نامي تنظيم نے زور ديا ہے کہ ملک ميں خودکشي کے واقعات اس سے کہيں زيادہ ہيں جو ذرائع ابلاغ ميں بيان کئے جا رہے ہيں۔
احتجاجوں کے پيش نظر اٹلي کے وزير اعظم ماريو مونٹي کي حکومت نے قانون محنت ميں اصلاح کا مسودہ پارليمنٹ ميں غور کے لئے بھيج ديا ہے تاہم ايسے حالات ميں کہ جب پارليمنٹ ميں اس تجويز پر غور ہونے والا ہے اٹلي ميں سياسي جماعتوں کے مختلف اسکينڈل سامنے آ رہے ہيں اور اس ملک کا سياسي و اقتصادي مستقبل پہلے سے زيادہ تاريک نظر آ رہا ہے۔.......
/169