15 اپریل 2012 - 19:30

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اپنے ایک اجلاس میں اتفاق آراء سے بین الاقوامی مبصرین شام روانہ کئے جانے کی منظوری دیدی ۔ اس فیصلے کی بنیاد پر جلد ہی تیس سے زائد غیر مسلح فوجی مبصرین شام روانہ کئے جائیں گے تاکہ اس ملک میں فائر بندی کے سمجھوتے کی نگرانی کی جاسکے ۔

ابنا: مبصرین کا یہ گروہ شام میں متحارب فریقوں کے ساتھہ رابطہ برقرار کرنے کے علاوہ جنگ بندی کے سمجھوتے پر ان کی پابندی کے بارے میں ایک رپورٹ بھی تیار کریگا ۔ شام میں فائر بندی کی برقراری اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نیز شام و عرب لیگ کے خصوصی نمائندے کوفی عنان کے چھے نکاتی منصوبے کا حصہ ہے اور اس فائر بندی کا نفاذ بارہ اپریل سے عمل میں آیا ہے ۔

یہ ایسے میں ہے کہ شام میں حکومت مخالفین نے نہ صرف اس سمجھوتے کا پابند ہونے کی نشاندہی نہیں کی ہے بلکہ عملی طور پر اس ملک میں تشدد کی ایک نئی لہر کاآغاز کردیا ہے ۔ سیاسی مبصرین نے شام میں مسلح باغیوں کی جانب سے فائر بندی کی جاری خلاف ورزی کو اس ملک کو بدامنی سے دوچار رکھنے اور بحران کے خاتمے کیلئے ہر قسم کی کوشش کو ناکام بنانے پر دہشتگردوں کے اصرار سے تعبیر کیا ہے ۔

مغربی ممالک بھی باغیوں کی کھلی حمایت جاری رکھہ کر اور جھوٹی و من گھڑت خبروں نیز حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرکے شام میں فائر بندی کی خلاف ورزی اور اس ملک میں باغیوں کے جرائم جاری رکھے جانے کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ اسی مقصد کے تحت مسلح عناصر شامی عوام اور اس ملک کی سیکیورٹی فورسیز کو بدستور اپنے حملوں کا نشانہ بنا رہے ہیں اور مغربی ذرائع ابلاغ ان حملوں کا ذمہ دار شام کی حکومت کو قرار دے رہے ہیں تاکہ یہ ظاہر کرسکیں کہ شام کی حکومت فائر بندی کے سمجھوتے کی پابند نہیں ہے ۔

مغربی ملکوں اور حکومتوں کے اس زہریلے پروپیگنڈے اور پیدا کردہ ماحول میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بین الاقوامی مبصرین، شام روانہ کئے جانے کی منظوری دی ہے جبکہ بین الاقوامی کوششوں کو کامیاب بنانے کیلئے شام کی حکومت کی کاروائیوں سے اس کی نیک نیتی کا بخوبی پتہ چلتا ہے اور اس نے بین الاقوامی مبصرین شام روانہ کئے جانے کا مسئلہ بھی قبول کرلیا ہے تاہم اس منصوبے سے غلط فائدہ اٹھائے جانے کیلئے کی جانے والی مشتبہ کاروائیوں پر اس نے خبر دار بھی کیا ہے ۔

سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ مغربی ممالک بین الاقوامی مبصرین شام روانہ کئے جانے کے مسئلے سے غلط فائدہ اٹھانے اور ان مبصرین کو شام کے خلاف مغربی فتنہ گروں ۔ سازش پسندوں اور آلۂ کاروں کے مقاصد کی راہ پر چلانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ اسی مقصد کے تحت مغربی ممالک ان مبصرین کے اختیارات کو غیرمحدود کرتے ہوئے شام کے قومی اقتدار کی خلاف ورزی اور ان مبصرین کو جاسوسی کیلئے استعمال کرنے کی بھی کوشش کررہے ہیں حالانکہ روس اور چین کی مخالفت اس بات کا باعث بنی ہے کہ بین الاقوامی مبصرین شام روانہ کئے جانے کے منصوبے میں اعتدال کے ساتھہ ساتھہ مغرب کی خود پسندی کی روک تھام کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔۔ .......

/169