ابنا: پولیس اہلکاروں نے مظاہرین پر حملہ کر کے ان میں سے کم از کم چھ کو گرفتار کر لیا۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب کل امریکی ریاست جنوبی کیرولینا میں واقع شہر رالی میں بھی پولیس نے قبضہ کرو تحریک کے کم از کم سات حامیوں کو گرفتار کرلیا تھا۔
قبضہ کرو تحریک کا آغاز گزشتہ برس سترہ ستمبر کو امریکہ کے شہر نیویارک میں حکومت میں بڑی کمپنیوں کے اثر و رسوخ اور اس ملک میں وسیع پیمانے پر پائي جانے والی بدعنوانی کے خلاف احتجاج سے ہوا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ تحریک امریکہ کے دوسرے شہروں اور یورپ کے بعض دوسرے ممالک تک پھیل گئي۔ امریکی اور یورپی حکام کو امید تھی کہ موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی یورپ اور امریکہ میں قبضہ کرو تحریک دم توڑ دے گی لیکن اس توقع کے برعکس حتی سردیوں کے مہینے میں بھی یہ تحریک ختم نہیں ہوئي اور اب یہ پیشین گوئي کی جارہی ہے کہ موسم بہار میں اس تحریک میں شدت پیدا ہوگي۔
یورپ میں سرمایہ دارانہ نظام کے مخالفین نے موسم سرما میں اس بات پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے مستقبل کے منصوبے تیار کررہے ہیں اور خاص کر بہار کے موسم میں وہ زیادہ موثر اقدامات انجام دیں گے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے مخالفین نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوۓ کہ مئی کا مہینہ احتجاجات کے منصوبوں پر عمل درآمد کا بہترین وقت ہے حکومتی پالیسیوں خصوصا سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف نۓ انداز میں احتجاج کرنے کی خـبر دی ہے۔
بعض ماہرین نے حتی اس امکان کا اظہار کیا ہے کہ یورپ میں نئي احتجاجی تحریکیں جنم لیں گی اور ان کا دائرہ سیاسی اور اقتصادی شعبوں سے بڑھ کر ثقافتی اور سماجی شعبوں تک پھیل جاۓ گا۔ امریکہ کے ایک پروفیسر میک فرسون نے اس سلسلے میں کہا ہے کہ قبضہ کرو تحریک امریکہ میں ثقافتی انقلاب کے دوسرے مرحلے کے مترادف ہے۔ اس انقلاب کا پہلا مرحلہ انیس سو ساٹھ کے عشرے میں شروع ہو کر انیس سو ستّر کے عشرے تک جاری رہا۔
اس وقت امریکہ میں ثقافتی انقلابی تحریک غیر منصفانہ جنگ ویتنام کے خلاف چلائی گئی تھی جو بعد میں شہری اور سول حقوق کے مطالبات کی تحریک پر منتج ہوئي اور موجودہ قبضہ کرو تحریک کے مطالبات انہی برسوں کے مطالبات کا تسلسل ہیں اور نتیجتا اس تحریک کو امریکہ کے ثقافتی انقلاب کا دوسرا مرحلہ قرار دیا جا سکتا ہے۔....... /169