8 اپریل 2012 - 19:30

بحريني شہريوں نے ايک بار پھر ملک کے مختلف شہروں ميں مظاہرے کئے اور انساني حقوق کے کارکنوں اور ديگر گرفتار سياسي قيديوں کي فوري رہائي کا مطالبہ کيا ہے-

ابنا: سيکڑوں کي تعداد ميں بحريني  شہري اتوار کي شام جزيرہ سترہ کي سڑکوں پر آئے اور انہوں نے انساني حقوق کے سرگرام کارکن عبدالھادي خواجہ کے ساتھ يکجہتي کا اظہار کيا –عبدالھادي خواجہ نے جنہيں بحرين کي نمائشي عدالت نے عمر قيد کي سزا سنائي ہے، دو ماہ سے جيل ميں بھوک ہڑتال کر رکھي ہے-

مظاہرين نے اپنے ہاتھوں ميں ايسے بينر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن عبدالھادي خواجہ کي تصاوير چسپاں تھيں اور شاہي حکومت کے خاتمے کے حق ميں نعرے درج تھے-مظاہرين " بحرين پر سعودي فوجيوں نے قبضہ کر رکھا ہے کہ نعرے لگاتے ہوئے، تمام غير ملکي فوجيوں کے انخلا کا مطالبہ کر رہے تھے- 

 ادھر انساني حقوق کے کارکن عبدالھادي خواجہ کي تازہ ترين تصاوير سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بھوک ہڑتال کي وجہ سے موت اور زندگي کي کشمکش ميں ہيں اور انکي حالت انتہائي تشويشناک ہوگئي ہے- عبدالھادي خواجہ کو گزشتہ جمعے کے روز اتنہائي تشويشناک حالت ميں فوجي اسپتال منتقل کيا گيا تھا- واضح رہے کہ بحرين ميں گزشتہ سال چودہ فروري سے شاہي حکومت کے خاتمے کے لئے عوامي تحريک جاري ہے اور لوگ جمہوريت کے قيام کامطالبہ کر رہے ہيں-

سعودي عرب نے مارچ دوہزار گيارہ ميں بحريني عوام کي انقلابي تحريک کو کچلنے کے لئے اپنے فوجي منامہ روانہ کئے تھے   جو بحريني سيکورٹي فورس کے ساتھ ملکر عوام کا قتل عام  کررہے ہيں-

اب تک سيکڑوں بحريني شہري سعودي فوجيوں اور شاہي حکومت کے سيکورٹي اہلکاروں کي فائرنگ ميں شہيد اور زخمي ہوچکے ہيں جبکہ ہزاروں کي تعداد ميں لوگوں کو گرفتار کرکے جيلوں ميں بند کرديا گيا ہے-.......

/169