8 اپریل 2012 - 19:30

اٹلي کي قومي مزدور يونين نے خبردار کياہے کہ سن دو ہزار بارہ ميں اس ملک ميں بے روزگاري اجتماعي شکل اختيار کرلے گي۔

ابنا: اٹلي کي قومي مزدوريونين کے سربراہ وينچنسٹو اسکوڈيرہ نےکہا ہے کہ اگر روزگار کے تعلق سے فوي طورپر وسيع پيمانے پر ضروري اقدامات نہ کئے گئے تو سن دو ہزار بارہ ميں اجتماعي بے روزگاري کا سامنا کرنا پڑے گآ۔

  انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ  ملک کو اجتماعي بے روزگاري سے بچانے کے لئے فوي طور پر پبلک اور پرائيويٹ سيکٹر کي سرمايہ کاري کے ذريعے تيز رفتار اقدامات کرے۔

اٹلي کے قومي ادارہ شماريات کے مطابق اٹلي ميں اس وقت تيس فيصد سے زيادہ نوجوان بے روزگار ہيں۔

  اس رپورٹ کے مطابق اٹلي ميں دو ہزار آٹھ سے دو ہزار گيارہ کے درميان اقتصادي بحران کے نتيجے ميں دس لاکھ سے زيادہ اطالوي نوجوان بے روزگار ہوئے ہيں۔

  رپورٹ کے مطابق دو ہزار گيارہ ميں اٹلي ميں اقتصادي بحران کے نتيجے ميں باسٹھ ہزار سےزيادہ کمپنياں اور کارخانے بند ہوئے ہيں۔

اقتصادي بحران کے خطرناک نتائج سے صرف اٹلي کے ہي عوام دوچار نہيں ہيں بلکہ يہ بحران اس وقت پورے يورپ ميں عوام کے لئے تشويشناک صورت اختيار کرچکا ہے خاص طور پر يونان،اسپين، اور پرتگال اقتصادي جمود کا شکار ہيں اور ديواليہ ہونے کے قريب پہنچ چکے ہيں۔

   يورپ کے سياستدانوں اور حکام کے برخلاف اقتصادي ماہرين کا کہنا ہے کہ يورپ کے اقتصادي بحران کے جلد ختم ہونے کا امکان نہيں ہے۔

  اقتصادي بحران کے شکار يورپي ملکوں ميں  سب سے زيادہ خراب حالت اسپين کي ہے جہاں بے روزگاري کي شرح  تيئس فيصد ہے جبکہ اسپين کے وزير خزانہ نے اعتراف کيا ہے کہ دو ہزار بارہ ميں اسپين ميں اقتصادي ترقي ميں مزيد کمي آئے گي اور بے روزگاري بڑھے گي۔ .......

/169