ابنا: انھوں نے کل ایک بیان میں کہا ہے کہ صوبے بلوچستان کے بارے میں وفاقی حکومت کی لاپرواہی سے اس صوبے میں بیرونی ملکوں کی مداخلت کے لئے حالات سازگار ہوئے ہیں۔ نواب اسلم رئیسانی نے کہا کہ غیر ممالک اور پاکستان کے دشمن ،صوبے بلوچستان میں اپنے منصوبوں کو آگے بڑھانے کیلئے بےروزگار بلوچ جوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ پاکستان کے صوبے بلوچستان کے وزیر اعلی کا وفاقی حکومت کی لاپرواہی کے نتائج اور صوبے بلوچستان کے مختلف مسائل منجملہ اغیار کی مداخلت ختم کئے جانے کی ضرورت کے بارے میں بیان،امریکہ کے اس مداخلت پسندانہ بل کی طرف اشارہ ہے کہ تقریبا دو ماہ قبل جس کا امریکی کانگریس میں جائزہ لیا گيا ۔ پاکستان کے صوبے بلوچستان کی آزادی کی حمایت کا منصوبہ امریکی کانگریس کے رکن رانا رودر اباچر نے پیش کیا جس پر پاکستان کے صوبے بلوچستان کے وزیر اعلی سمیت پاکستان کے اعلی حکام نے شدید رد عمل کا اظہار کیا ۔ اس سلسلے میں پاکستان کے صوبے بلوچستان کے وزیر اعلی نواب اسلم رئیسانی نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں پاکستان میں یورپی یونین کے نمائندے لارس گنر مارک سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبے بلوچستان میں اغیار کی مداخلت کےٹھوس ثبوت موجود ہیں ۔ جنگ افغانستان میں پاکستان کے اسٹریٹیجیک کردار کے پیش نظراس بات کی قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ پاکستان کے صوبے بلوچستان میں اختلافات کو ہوا دینے سے امریکی کانگریس اور حکومت کا مقصد اس جنگ میں وہائٹ ہاؤس کے ساتھہ تعاون کرنے پر اسلام آباد کو مجبور کرنا ہے۔ البتہ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ جیساکہ پاکستان کے صوبے بلوچستان کے وزیر اعلی نواب اسلم رئیسانی نے بھی کہا ہے کہ صوبے بلوچستان کے مسائل کے بارے میں وفاقی حکومت کی لاپرواہی کی بناء پر دیگر ملکوں کو اس صوبے میں مداخلت کرنے کا موقع نہیں دیا جانا چاہئے ۔ ایسی حالت میں کہ پاکستان کا صوبے بلوچستان ،رقبے کے لحاظ سے اس ملک کا سب سے بڑا صوبہ شمار ہوتا ہے قومی آمدنی اور معاشی اعتبار سے اس ملک کا سب سے پسماندہ صوبہ کہلاتا ہے ۔ صوبے بلوچستان کی موجودہ صورت حال پاکستان کی وفاقی حکومت کیلئے اس بات کی متقاضی ہے کہ وہ قومی دولت و ثروت کی اس طرح سے تقسیم کرے کہ صوبائی بجٹ مخصوص کئے جانے میں انصاف سے کام لیا جاسکے ۔ اس وقت پاکستان کے صوبے بلوچستان کے عوام میں اس بات کا احساس پایا جاتا ہے کہ وفاقی حکومت ،صوبے سندہ اور صوبے پنجاب کو زیادہ اہمیت دیتی ہے اور اسی بناء پر قومی ثروت کی تقسیم میں ان دونوں صوبوں کا حصہ صوبے بلوچستان کی نسبت زیادہ ہوتا ہے اور نتیجے میں ان دونوں صوبوں کے عوام، زیادہ اچھی حالت میں زندگی بسر کررہے ہیں ۔ اور یہی احساس اس بات کا موجب بنا ہے کہ اس صوبے کو سیکیورٹی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے علاوہ پاکستان کی وفاقی حکومت کو بھی اس صوبے میں علیحدگی پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحانات کا سامنا کرنا پڑے اور یہ احساسات جو پاکستان کی حکومت اور علیحدگی پسند راہنماؤں کے درمیان اختلافات پیدا ہونے کا باعث بنا ہے اس بات کا بھی موجب بنا ہے کہ صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے درمیان بڑھتی دوری کے نتائج کا صوبے بلوچستان کے عوام کو سامنا کرنا پڑے ۔ بنابریں پاکستان کے صوبے بلوچستان کے وزیر اعلی نواب اسلم رئیسانی وفاقی حکومت سے اس بات کی توقع رکھتے ہیں کہ وہ اس صوبے کے مسائل میں منطقی طریقے پر عمل کرتے ہوئے قومی دولت و ثروت کی منصفانہ تقسیم پر مبنی عام اعتماد بڑھائے جانے کے دائرے میں قومی یکسوئی کی راہ ہموار کریگی ۔۔....... /169
5 اپریل 2012 - 19:30
News ID: 306806
پاکستان کے صوبے بلوچستان کے وزیر اعلی نواب اسلم رئیسانی نے وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے بلوچستان پر توجہ نہ دئے جانے پر تنقید کی ہے ۔