4 اپریل 2012 - 19:30

بحرين ميں انسداد ايذارساني کميٹي کے سربراہ نے اس ملک ميں آل خليفہ حکومت کے ہاتھوں انساني حقوق کي کھلي پامالي پر مغرب اور عرب دنيا کي خاموشي کو قابل مذمت قرارديا ہے۔

ابنا: بحرين ميں انسداد ايذا رساني کميٹي کے سربراہ روڈني شکسپير نے العالم سے اپنے انٹرويو ميں مظاہرين کے خلاف آل خليفہ حکومت کے بڑھتے ہوئے جرائم اور مظالم پر مغربي اور عرب ملکوں کي خاموشي پر شديد تنقيد کرتے ہوئے کہاکہ بحريني شہريوں منجملہ خواتين اور بچوں کے خلاف آل خليفہ  کي سيکورٹي فورس  کے مظالم اس بات کو ثابت کرتے ہيں کہ بحريني حکومت کے نزديک اس ملک کے عوام کي جان کي کوئي اہميت نہيں ہے۔ روڈني شکسپير نے کہاکہ بحرين ميں انسداد ايذارساني کميٹي نے ايسے بہت سے معاملات کا پتہ لگايا ہے جن ميں بچوں کو گرفتار کيا گيا اور ان پرحملے کئے گئےہيں-  انہوں نے کہا کہ آل خليفہ حکومت کي سيکورٹي فورس  بچوں کو گرفتار کرکے انہيں دور دراز کے علاقوں ميں لے جار کر چھوڑ ديتي ہے اور اس طرح بچوں کو ايذائيں ديتي ہے۔       دوسري طرف پريس ٹي وي نے خبردي ہے کہ  بحرين ميں انساني حقوق کے سرگرم کارکن عبدالہادي الخواجہ کي جسماني حالت بہت خراب ہوگئي ہے-  عبدالہادي الخواجہ کو تين اپريل کو ان کي ابتر جسماني حالت  کے پيش نظر اسپتال ميں داخل کراديا گيا ہے۔عبدالہادي الخواجہ نے جو بحريني حکومت کي جيل ميں   اپنے خلاف عمرقيد کي سزاسنائے جانے کے فيصلے پر احتجاج کرتے ہوئے  تقريبا دو مہينے قبل سے بھوک ہڑتال کررکھي ہے۔ ياد رہے کہ بحرين ميں انساني حقوق کے سرگرم کارکن عبدالہادي الخواجہ کو گذشتہ برس اپريل ميں حکومت مخالف مظاہروں ميں شرکت کے الزام ميں گرفتار کرليا گيا تھا اور بحرين کي فوجي عدالت نے انہيں عمرقيد کي سزاسنائي ہے۔      ہيومن رائٹس واچ   اور ايمنسٹي انٹرنيشنل نے اس سے پہلے مطالبہ کيا تھا  کہ  بحرين ميں  ان مظاہرين کو جنھيں جيلوں ميں بند رکھا جارہا ہے اور جو اپنے ملک ميں آزادي اور جمہوريت کے لئے مظاہرے کررہے تھے فوري طور پر رہاکيا جائے۔     بحرين ميں آل خليفہ حکومت کے خلاف گذشتہ برس فروري ميں مظاہرے اور انقلابي تحريک شروع ہوئي ہے جو ابھي تک جاري ہے اس دوران بحريني اور سعودي   فوجيوں نے سيکڑوں کي تعداد ميں عام شہريوں کو شہيد  اور زخمي کرنے کےساتھ بڑي تعداد ميں لوگوں کو قيد کرليا ہے۔    دريں اثنا بحرين کے ايک سياسي رہنما جواد عبدالوہاب نے کہا ہے کہ آل خليفہ خاندان نے جب سے بحرين ميں حکومت کي باگ ڈور سنبھالي ہے   اس وقت سے ہي   ملک کے مختلف علاقوں ميں ہر طرح کے مذہبي پروگراموں پر پابندي عائد کررکھي ہے۔ جواد اعبدالوہاب نے بحرين کے علاقے المحرق ميں پيغمبر اسلام صل اللہ عليہ وآلہ وسلم کي دخترگرامي حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ عليھا کے يوم شہادت کي مناسبت سے مجالس عزا پر حکومت کي جانب سے عائد کردہ پابنديوں کا حوالہ ديتے ہوئے کہاکہ المحرق علاقے کے سبھي لوگ ان مجالس عزا ميں بڑي تعداد ميں شرکت کريں گے۔انہوں نے کہا کہ المحرق کے باشندے ان مجالس ميں اپني بھرپور شرکت سے آل خليفہ حکومت کو يہ پيغام ديں گے کہ ملت بحرين صديوں سے مذہبي پروگرام کرتي چلي آئي ہے اور اس طرح کے پروگراموں اور مجالس عزا سے دستبردار ہونا اس کے لئے غيرممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئين کے مطابق جو خود آل خليفہ حکومت نے ہي تدوين کيا ہے ملک ميں مذہبي پروگراموں کے انعقاد کي اجازت ہے اور اپنے مذہبي پروگرام اور رسومات کي انجام دہي ميں ملک کے سبھي فرقوں کو اجازت حاصل ہے۔.......

/169