4 اپریل 2012 - 19:30

نیٹو تنظیم نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ رواں سال کے دوران افغانستان میں ہلاک ہونے والے غیر ملکی فوجیوں کی تعداد ایک سو تک پہنچ گئي ہے۔

ابنا: cacasualties.org ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق نیٹو کے کمانڈروں کا کہنا ہے کہ نیٹو کی پالیسی کے تحت ہلاکتوں کی تفصیلات نہیں بتائي جاتی ہیں۔افغانستان میں قابض فوجیوں کی ہلاکتوں میں اضافے کی وجہ سے افغانستان میں اپنے فوجی بھیجنے والے یورپی ممالک کو داخلی سطح پر مخالفتوں کا سامنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نیٹو کے رکن یورپی ممالک کی حکمران جماعتیں افغانستان سے اپنے فوجیوں کے انخلا پر تاکید کررہی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے زور دے کر کہا ہے کہ نیٹو افغانستان سے نہیں نکلے گی۔ ہلیری کلنٹن نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوۓ کہ شیکاگو میں ہونے والے نیٹو کے اجلاس میں افغان حکومت ، شہریوں اور حکومت کے مخالفین پر واضح کردیا جاۓ گا کہ نیٹو افغانستان سے نہیں نکلے گی اشارے کناۓ میں افغانستان پر قبضہ جاری رکھنے پر تاکید کی ہے۔ امریکہ سے شائع ہونے والے اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق بیس اور اکیس مئی کو پچاس سے زیادہ ممالک کے سربراہوں کا شیکاگو میں اجلاس ہوگا جس میں وہ افغانستان میں جنگ بندی کے سلسلے میں ہونے والی پیشرفت کا جائزہ لیں گے۔ کلنٹن نے تاکید کی ہے کہ اگرچہ سنہ دو ہزار چودہ کے اختتام پر افغان عوام اپنے ملک کا انتظام مکمل طور پر اپنے ہاتھ میں لے لیں گے لیکن شیکاگو اجلاس میں افغانستان کے ساتھ نیٹو کے دائمی تعلقات کا جائزہ لیا جاۓ گا۔ ہلیری کلنٹن کے ان بیانات کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ شیکاگو اجلاس کے ذریعے افغانستان پر قبضہ جاری رکھنے کی توثیق کروانا اور یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ عالمی برادری نے افغانستان پر قبضے کی حمایت کردی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ امریکہ نیٹو تنظیم کے فرائض کی نئي تعریف کر کے افغانستان میں اس کی موجودگی کو جائز ظاہر کرنے کے درپے ہے حالانکہ افغانستان کے عوام اور حکومت کو اپنے ملک میں امریکہ کی فوجی موجودگی کے منفی اثرات پر شدید تشویش ہے۔

یہی وجہ ہے کہ افغان حکام نے بارہا امریکی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سنہ دو ہزار چودہ کے بعد افغانستان میں اپنے فوجی منصوبے کو واضح طور پر بیان کرے۔ واشنگٹن افغان حکومت پر سیکورٹی معاہدہ مسلط کرنے کے ذریعے اس ملک میں اپنے دائمی فوجی اڈے قائم کرنے کے علاوہ اپنے ہزاروں فوجی بھی تعینات رکھنے کے درپے ہے۔ اس سلسلے میں تشویشناک بات امریکہ کی جانب سے افغان حکومت پر کیپیچولیشن کے حق کا مسلط کیا جانا ہے جس کی رو سے افغانستان کی عدالتیں اور سیکورٹی فورسز کو جرم کا ارتکاب کرنے والے نیٹو اور امریکی فوجیوں کی گرفتاری اور ان پر مقدمہ چلانے کا حق حاصل نہیں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کہ جو افغان عوام کے لۓ مشکلات کھڑی کرنے کا سب سے بڑا سبب ہے ، افغانستان میں نیٹو کو بھی اپنے ساتھ رکھنے کی کوشش کررہا ہے۔ جس کے معنی افغانستان کو خطے میں امریکہ اور نیٹو کے فوجی اڈے میں تبدیل کرنے کے ہیں۔ خطے کے ممالک کے نزدیک اس صورتحال سے خطے کی سلامتی شدید خطرات سے دوچار ہوجاۓ گی۔
....... 
/169