1 اپریل 2012 - 19:30

پاکستان کے صنعتي مرکز کراچي ميں امن و امان کي صورتحال پر قابو پانے کے لئے شہر بھر ميں پوليس اور رينجرز کي مزيد چيک پوسٹيں قائم کرنے کا فيصلہ کيا گيا ہے-اس بات کا فيصلہ پاکستان کے وزير داخلہ رحمان ملک اور صوبائي وزير اعلي قائم علي شاہ کي صدارت ميں ہونے والے اعلي سطحي اجلاس کے دوران کيا گيا-

ابنا:پاکستاني ذرائع ابلاغ کے مطابق وزيراعلي ہاوس کراچي ميں ہونے والے اس اعلي سطحي اجلاس ميں شہر کے تمام علاقوں سے مختلف سياسي جماعتوں کے پرچم بھي ہٹانے کا فيصلہ کيا گيا ہے-آئي جي سندھ نے اجلاس کو بتايا ہے کہ کراچي کي بدامني کے حاليہ واقعات ميں سياسي جماعتوں کے کارکن ملوث ہيں-رپورٹ کے مطابق وزير داخلہ رحمان ملک نے پوليس کو حکم ديا ہے کہ سياسي وابستگيوں کو خاطر ميں لائے بغير ہنگاموں ميں ملوث افراد کے لئے سخت کاروائي کرے-انہوں نے کراچي کے حساس علاقوں کي فہرست تيار کرنے کا بھي حکم ديا ہے- انکا کہنا تھا کہ کراچي کي بدامني ميں تيسرا ہاتھ ملوث ہے تاہم انہوں نے کسي کا نام نہيں ليا کہ يہ تيسرا ہاتھ کونسا ہے-پاکستان کے وزيرا داخلہ نے کہا کہ  ايف سي، رينجرز اور پوليس کو  تشدد پر قابو پانے کے لئے مکمل اختيارات دے ديئے گئے ہيں-واضح رہے کہ کراچي ميں حاليہ تين دن کے دوران ہونے والے تشدد کے واقعات ميں ايک درجن سے زائد لوگ مارے جاچکے ہيں-........

/169