اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شام کا مسئلہ بغداد میں عرب لیگ کے اجلاس کا اہم ترین موضوع رہا اور بعض عرب حکمرانوں کے اصرار کے باوجود عرب لیگ نے شام کے بحران کے پر امن حل پر زور دیا اور یہ مشترکہ عرب موقف ایسے حال میں سامنے آیا کہ شام میں مغرب و سعودی عرب اور قطر کے حمایت یافتہ مسلح دہشت گردوں کی دہشت گردانہ کاروائیاں جاری ہیں اور اس ملک کے امن و استحکام پر مسلسل حملے کررہے ہیں جبکہ دوسری طرف سے شام کی حکومت نے اپنی کاروائیوں میں دہشت گردوں کو سخت نقصانات سے دوچار کردیا ہے۔ شام میں بعض دہشت گرد گروپ "حمد بن جاسم آل ثانی گروپس" کے نام سے فعال ہوگئے ہیں۔ گذشتہ تین دنوں کے دوران شام کے حالات:ــ شام: دہشت گردوں کے ہاتھوں میں اسیر ایرانی انجنئرز رہا 5 ایرانی انجنئرز کو مسلح دہشت گردوں نے حلب سے اغوا کیا تھا جو رہا ہوکر ترکی پہنچ گئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق تین ماہ قبل شام کے دہشت گرد ٹولوں کے ہاتھ اغوا ہونے والے پانچ ایرانی انجنیئر رہا ہوگئے ہیں اور انہیں ترکی پہنچا دیا گیا ہے!ــ ایک شامی کرنل دہشت گردانہ کاروائی میں جان بحق شامی ذرائع کے مطابق دارالحکومت دمشق کے صوبہ ریف کے علاقے جوبر میں چار مسلح دہشت گردوں نے حملہ کرکے شامی افواج کے ایک کرنل کو قتل کردیا ہے۔اطلاعات کے مطابق جمعرات (30 مارچ) کو دمشق کے صوبہ ریف کے علاقے جوبر میں چار مسلح دہشت گردوں نے حملہ کرکے شامی افواج کے ایک کرنل کو دہشت گردانہ کاروائی میں قتل کردیا ہے۔ مقتول کرنل گھر سے نکل ہی رہا تھا کہ دہشت گردوں کے حملے کا نشانہ بنا۔ ادھر شام کی سرکاری خبر ایجنسی سانا نے رپورٹ دی ہے کہ شامی افواج کے دو کرنل حلب میں بھی عرب ریاستوں اور امریکہ و ترکی کے حمایت یافتہ دہشت گرد ٹولوں کی فائرنگ سے جاں بحق ہوگئے ہیں۔سانا نے رپورٹ دی ہے کہ شامی فورسز نے ملک کے شمال میں صوبہ ادلب میں چار فوجیوں اور ایک پولیس اہلکار کو مسلح گروپوں سے بازیاب کرایا ہے۔ یہ افراد ایک فوجی کاروائی میں رہا کروا دیئے گئے جبکہ انہیں اغوا کرنے والے دہشت گرد علاقہ خالی کرکے فرار ہوگئے ہیں۔ یہ افراد اس سے پیشتر مسلح گروپوں کے ہاتھوں اغوا ہوگئے تھے۔ مسلح دہشت گرد ٹولوں کو حالیہ ایام میں ریف دمشق، حمص۔ ادلب اور دیرالزور کے علاقے میں زبردست ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے چنانچہ انھوں نے اب بم دھماکوں اور اغوا کا سہارا لیا ہے۔
ــ واشنگٹن بشار اسد پر دباؤ جاری رکھنے کا پابند ہےگوکہ شام نے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے امن فارمولے پر عملدرآمد کرنے کا عندیہ دیا ہے لیکن امریکی وزارت خارجہ کا دعوی ہے کہ گویا بشار اسد اس منصوبے پر عملدرآمد کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں اور انھوں نے ضروری اقدامات انجام نہیں دیئے ہیں!۔اطلاعات کے مطابق امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان "وکٹوریا نولنڈ (Victoria Nuland)" نے دعوی کیا ہے کہ بدھ کے روز کہا ہے کہ بشار اسد اپنے وعدوں میں ناکام ہوگئے ہیں اور وہ عرب لیگ اور اقوام متحدہ کی مشترکہ تجاویز پر عمل نہیں کرسکے ہیں اور یہ کہ انھوں نے اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کے منصوبے پر عمل نہیں کررہے ہیں۔واضح رہے کہ کوفی عنان نےکچھ ہی روز قبل اپنی تجاویز پیش کی ہیں اور شام نے ان تجاویز پر عملدر آمد کا وعدہ دیا ہے لیکن گویا امریکہ کسی بھی بہانے سے شام میں فوجی مداخلت کا جواز ڈھونڈ رہا ہے اور گویا امریکیوں نے کوفی عنان کو بھی ناکام بنانے کا تہیہ کرر رکھا ہے۔نولاند نے دنیا بھر میں امریکی جرائم کی وجہ سے بین الاقوامی برادری کی فکرمندی کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا کہ کویا انہیں شام میں گرفتاریوں سے تشویش لاحق ہے۔انھوں نے کہا کہ امریکہ شام پر دباؤ جاری رکھنے کی اپنی پالیسی کا پابند ہے۔انھوں نے بحرین، یمن اور سعودی عرب میں ہزاروں افراد کے قتل عام اور گرفتاریوں پر امریکہ کی مصلحت آمیز خاموشی کی طرف اشارہ کئے بغیر کے بغیر دعوی کیا: ہم بشار اسد کے وعدے دیکھ کر نہیں بلکہ اقدامات دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں؟!ــ شام کے پارلیمانی انتخابات کے لئے سات ہزار افراد کے کاغذات نامزدگی داخلشامی ذرائع کی رپورٹ کے مطابق اس ملک میں 7 مئی 2012 کو منعقد ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں شرکت کے لئے 7000 افراد نے کاغذات نامزدگی داخل کئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق مئی 2012 میں اس ملک میں منعقد ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں شرکت کے لئے 7195 امیدواروں نے اپنے کاغذات نامزدگی داخل کرائے ہیں۔شام کی نیوز ویب بیس الحقیقہ نے لکھا ہے کہ نامزد امیدواروں میں 2632 افراد اعلی تعلیم یافتہ ہیں اور سات سو خواتین ہیں۔ دمشق سے 1523 افراد اور حلب سے 1322 افراد نامزد امیدوار ہیں اور ان دو صوبوں سے سب سے زیادہ افراد نے پارلیمان پہنچنے کے لئے تگ و دو کا آغاز کیا ہے جبکہ شام کے جنوب میں صوبہ درعا سے نامزد امیدواروں کی تعداد سب سے کم 148 ہے۔واضح رہے کہ شامی پارلیمان کی کل نشستیں 250 ہیں جن میں سے 127 نشستیں مزدوروں اور دھقانوں کے لئے مختص ہیں۔شام میں کاغذات نامزدگی داخل کرنے کا سلسلہ 15 مارچ سے شروع ہوا تھا جو کل 29 مارچ تک جاری رہا۔ ــ 12 کرد گروپ شام مخالف شوری سے خارج ہوگئےاستنبول میں ترک حکومت کے زیر نگرانی شام مخالف گروپوں کے درمیان اختلافات کی خلیج وسیع تر ہونے پر شام مخالف شوری کے رکن بارہ کرد گروپوں نے اس شوری کو چھوڑ دیا ہے۔اطلاعات کے مطابق شام حکومت کے مخالفین کی شوری کا اجلاس "فرینڈز آف سیریا" کے عنوان کے تحت، در روز سے قطر اور ترک حکومت کی زیر نگرانی جاری رہا جس کے دوران یہ شوری شدید ترین اختلافات کا شکار ہوگئی۔ترک نیوز ویب بیس "نیوز 1" نے «شامی اپوزیشن کی "قومی شوری" کردوں کو کھوگئی» کے تحت اپنی رپورٹ میں لکھا: کردوں کے متعدد سیاسی نمائندے اس بات پر ناراض ہوئے تھے کہ شام حکومت کی مخالف کونسل کردوں کو تسلیم نہیں کررہی تھی اور انہیں شام کے مستقبل میں کوئی کردار دینے کی روادار نہ تھی اور ان کرد سیاستدانوں نے اس شوری کو ترک کردیا۔ ادھر ترکی، قطر اور سعودی سرپرستی میں سرگرم عمل بیرون ملک قائم شام مخالف کونسل کے سابق کرد رکن نے کہا ہے کہ شوری کے رکن 12 کرد گروپوں نے احتجاج کرتے ہوئے اس شوری کو ترک کردیا ہے۔انھوں نے کہا: بیرون ملک (ترکی میں) قائم اپوزیشن کی کونسل کردوں سمیت شام کی پوری قوم کی نمائندہ کونسل نہیں ہے۔ ترک ویب سائٹ نے لکھا ہے کہ شوری کے دوسرے اراکین کے درمیان بھی شدید اختلاف رائے پایا جاتا ہے تا ہم اردوگان حکومت ان کے اختلافات حل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
ــ شام: صدر بشار اسد کا دورہ بابا عمروصدر عرب جمہوریہ شام کے بشار اسد نے گذشتہ منگل کے روز صوبہ حمص میں "بابا عمرو" محلے کا دورہ کیا جو حال ہی میں آل سعود، آل ثانی اور امریکہ، ترکی اور اسرائیل کے حمایت یافتہ دہشت گرد ٹولوں سے چھڑا دیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بابا عمرو" کا محلہ کـچھ عرصہ قبل تک بلادالحرمین کے آل سعود خاندان، قطر کے آل ثانی خاندان اور امریکہ، ترکی اور اسرائیل کے حمایت یافتہ دہشت گرد ٹولوں کے قبضے میں تھا اور اس علاقوں میں ان کے انسانیت کش جرائم کی کہانیاں ابھی تک فاش نہیں ہوئی ہیں۔ شام کے صدر ڈاکٹر بشار اسد نے بابا عمرو کے باشندوں سے بات چیت کی جو اس علاقے میں امن کے قیام کے بعد اپنے گھروں کو لوٹے ہیں۔بشار اسد عوام سے بات چیت کرتے ہوئے وعدہ کیا کہ دہشت گردوں کے تسلط کے دوران تباہ ہونے والے گھروں اور شہری تنصیبات کی جلد از جلد تعمیر کا اہتمام کیا جائے گا۔انھوں نے کہا: حکومت اپنے فرائض میں ہرگز سستی نہیں کرے گی۔صدر بشار اسد نے بابا عمرو میں تعینات ان شامی فوجیوں سے بھی ملاقات کی جنہوں نے نہایت پیچیدہ فوجی کاروائیوں کے ذریعے بابا عمر کو مسلح دہشت گردوں سے چھڑالیا ہے۔ انھوں نے ان فوجیوں کا شکریہ ادا کیا۔دریں اثناء بابا عمر کے عوام نے صدر کا ولولہ انگیز انداز سے استقبال کیا۔
ــ شام کے سلسلے میں عرب حکام کے درمیان اختلافاتبغداد میں عرب لیگ کے اجلاس میں حاضر عرب حکام کے درمیان شام کے حوالے سے اختلافات نماياں ہوگئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق بغداد میں عرب لیگ کے رکن ممالک شام کے حوالے سے کوفی عنان کے منصوبے کو قبول کرنے کے باوجود شام میں تشدد کے خلاف اقدامات کی نوعیت کے حوالے سے اختلاف کا شکار ہوگئے ہيں اور کئی ممالک کا خیال ہے کہ شام کے معاملات میں مداخلت اس ملک ميں فرقہ وارانہ جنگ کا پیش خیمہ ہوسکتے ہیں۔رائٹرز نے بغداد میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کی ملاقاتوں کے حوالے سے رپورٹ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ عرب لیگ کے رکن ممالک نے شام میں جنگ بندی اور مذاکرات کے آغاز پر مبنی کوفی عنان کا چھ نکاتی منصوبے کی حمایت کی ہے لیکن شام کی صورت حال پر قابو پانے کے لئے اقدام کی نوعیت کے حوالے سے اختلافات کا شکار ہیں اور یہ صورت حال ان عرب ملکوں کے لئے خوشایند نہیں ہے جو شام میں فرقہ واریت کو ہوا دے رہے ہیں۔ادھر شام کی حکومت نے کوفی عنان کے منصوبے پر عملدرآمد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بغداد میں شام کے حوالے سے کسی بھی قسم کے پروگرام یا منصوبے کو مسترد کرے گی۔رائٹرز نے دعوی کیا ہے کہ شام کا یہ اعلان اقوام متحدہ کے چھ نکاتی پروگرام کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔بان کی مون نے بغداد جانے سے قبل کہا تھا کہ شام کی طرف سے کوفی عنان کی تجاویز کی حمایت اس ملک میں تشدد کے خاتمے کا باعث ہوسکتی ہے اور شام کا یہ اعلان بہت اہم ہے۔رائٹرز نے لکھا ہے کہ عرب ليگ نے شام میں بیرونی مداخلت کی مخالفت کرکے شام میں عرب ملکوں کی مداخلت کے سابقہ منصوبے کو ترک کردیا ہے اور عرب حکام شام کے صدر بشار اسد کے استعفے کی اپنی تجویز سے پسپا ہوگئے ہیں اور اب عرب لیگ کے ہاں مذاکرات کے لئے بشار اسد کا استعفی ضروری تصور نہیں کیا جارہا ہے۔ رائٹرز نے لکھا کہ سعودی عرب اور قطر، جو شام میں فرقہ واریت کو ہوادینے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں اور شام پر دباؤ بڑھانے میں بھی اہم ترین کردار ادا کرتے رہے ہیں اور شام کے مسلح گروپوں کو فوجی اور مالی امداد دینے کے خواہاں ہیں لیکن دوسرے عراق اور الجزائر سمیت دوسرے عرب ممالک شام کے حوالے سے اعتدال پسندانہ کردار ادا کرنے کے خواہاں ہیں کیونکہ ان کے خیال ميں کسی قسم کا غیر محتاط اقدام اس ملک میں فرقہ وارانہ لڑائیوں کا سبب ہوسکتا ہے جو کہ ایک تشویش آمیز مسئلہ ہے۔
ــ شام عرب لیگ کی منظور کردہ تجاویز کو قبول نہیں کرے گاشام کے شہریوں اور سیاسی مبصرین کا کہنا کہ عرب لیگ میں شام کی رکنیت معطل کی گئی ہے اور دوسری طرف سے عرب لیگ پر ایسے عرب حکمران مسلط ہیں جو مغرب اور صہیونیت کے مقاصد کے لئے کام کررہے ہیں چنانچہ عرب لیگ کے فیصلے شام کے لئے غیر اہم ہیں