ابنا: افغانستان میں تعینات غیر ملکی فوجیوں کے کمانڈر جنرل جان آلن اور مشرق وسطی میں امریکہ کی سینٹرل کمان کے کمانڈر جنرل جیمز ماتیز اپنے دورۂ پاکستان میں اس ملک کے اعلی فوجی حکام منجملہ فوج کے سربراہ جنرل کیانی سے گفتگو کی -نومبر 2011 میں نیٹو کے ہیلی کاپٹروں کے حملے میں 24 پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پاکستان اور امریکہ کے اعلی فوجی حکام کے درمیان ہونے والی یہ پہلی ملاقات ہے۔ پاکستان کی فوجی چوکی پر نیٹو کے حملے کے بعد سے دونوں ملکوں کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہوگئےہیں۔ امریکہ کے ان دو اعلی فوجی عہدیداروں کا دورۂ پاکستان ایسی حالت میں انجام پارہا ہے کہ امریکی صدر بارک اوباما نے جنوبی کوریا کے دار الحکومت سئول میں جوہری سلامتی کے اجلاس کے موقع پر کل پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گيلانی سے گفتگو کرتے ہوئے اسلام آباد اور واشنگٹن کے تعلقات پر نظر ثانی کے بارے میں پاکستان کی پارلیمنٹ سے منصفانہ فیصلے کی اپیل کی تھی اور امریکہ کے ان دو اعلی فوجی عہدیداروں کا دورہ، پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گيلانی سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر بارک اوباما کی اس تاکید کے بعد انجام پایا ہے کہ پاکستان کی پارلینٹ کو چاہئے کہ امریکہ کی سلامتی کی ضروریات اور خاص طور سے دہشت گردی کے خلاف مہم پر توجہ دے جس سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ واشنگٹن کو دونوں ملکوں کے تعلقات میں جاری کشیدگی پر تشویش لاحق ہے۔ امریکہ کے سیاسی و فوجی حکام کے نقطۂ نظر سے جنگ افغانستان میں امریکہ یا نیٹو کی کامیابی یا ناکامی میں پاکستان کا کردار خاص اہمیت کا حامل ہے اور واشنگٹن کے ساتھہ تعاون منقطع کرنے کے بارے میں اسلام آباد کی نئی پالیسی سے افغانستان میں تعینات غیرملکی فوجیوں کیلئے حالات کافی دشوار بن سکتے ہیں۔ اس وقت جنگ افغانستان سے متعلق پاکستان کی جانب سے اطلاعات کی سطح میں کمی اورنیٹو کیلئے سپلائی لائن بند کئے جانے سے افغانستان میں تعینات غیر ملکی فوجیوں کیلئے کافی مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔ ایسی صورت میں افغانستان میں تعینات غیر ملکی فوجیوں کے کمانڈر جنرل جان آلن اور مشرق وسطی میں امریکہ کی سینٹرل کمان کے کمانڈر جنرل جیمز ماتیز اپنے دورۂ پاکستان میں اس ملک کے فوجی حکام کو واشنگٹن کے ساتھہ تعاون کے دوبارہ آغاز کی ترغیب دلانے کی کوشش کررہے ہیں۔ دو طرفہ پرامن تعلقات جاری رکھنے کیلئے امریکہ اور پاکستان کی حیات بخش ضرورت کے پیش نظر واشنگٹن کے ساتھہ تعاون کے حوالے سے اسلام آباد کا منفی روّیہ ناقابل تبدیل نہیں ہوسکتا۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معاشی مشکلات کے پیش نظر اسلام آباد کیلئے واشنگٹن کی مالی حمایت کافی اہمیت کی حامل ہے۔ بنابریں اس وقت جبکہ پاکستان کیلئے امریکہ کی جانب سے بعض مالی اور فوجی امداد روک دی گئی ہے اسلام آباد میں پاکستان کے اعلی فوجی حکام سے افغانستان میں تعینات غیر ملکی فوجیوں کے کمانڈر جنرل جان آلن اور مشرق وسطی میں امریکہ کی سینٹرل کمان کے کمنڈر جنرل جیمز ماتیز کی گفتگو ممکنہ طور پر پاکستان اور امریکہ کے تعلقات معمول پر لانے کیلئے راہ حل کے حصول پر منتج ہوسکتی ہے۔ یہ قیاس آرائی بھی کی جارہی ہے کہ اگر امریکہ پاکستان کی امداد دوبارہ شروع کرنے کے بارے میں مثبت ردّ عمل کا اظہار کرتا ہے تو اسلام آباد بھی نیٹو سپلائی لائن بند رکھنے پر نظر ثانی کرسکتا ہے۔ .......
/169