22 مارچ 2012 - 19:30

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اصحاب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خاص قسم کی خصوصیات اور اوصاف کے مالک تھے۔ یہ لوگ آیات قرآنی اور خدا کی وحی کو بلا واسطہ طور پر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زبان مبارک سے سن لیا کرتے تھے؛ ... اور ... لیکن ...

 گدشتہ سے پیوستہ

 

7۔ پیغمبر اکرم (ص) کے اصحاب کی قسمیں

قرآن مجید کی گواہی کے مطابق اصحاب رسول (ص) کو پانچ گروہوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:

1۔ پاک و صالح افراد:

یہ لوگ نہایت مؤمن اور مخلص تھے اور ایمان ان کی روح کی اتہاہ گہرائیوں میں رچا بسا تھا۔ یہ لوگ کسی بھی صورت میں خدا کی راہ میں کلمۂ اسلام کی سربلندی کی خاطر کسی بھی قربانی سے دریغ نہيں کرتے اور یہ وہی گروہ ہے جس کا ذکر سورہ توبہ کی آیت 100 میں آیا تھا کہ ان سے خدا خوشنود ہے اور وہ بھی خدا سے خوشنود ہیں۔

"رَضِىَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ"۔

2۔ خطاکار مؤمنین

یہ وہی لوگ تھے جو ایمان اور عمل صالح کے مالک ہوتے ہوئے بھی خطا کا ارتکاب کرتے اور نیک و بد اعمال کی آمیزش کیا کرتے تھے۔ یہ لوگ اپنے گناہوں کے معترف تھے اور ان کو اپنے گناہوں کی مغفرت و بخشش کی امید تھی۔

سورہ توبہ کی آیت 102 میں اصحاب کے گروہ اول کے بعد ان کا ذکر آتا ہے:

"وَآخَرُونَ اعْتَرَفُواْ بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُواْ عَمَلاً صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا عَسَى اللّهُ أَن يَتُوبَ عَلَيْهِمْ"۔

ترجمہ: اور دوسرے کچھ ہیں جنہیں اقرار ہے اپنے گناہوں کا۔  انہوں نے نیک اور بداعمال ملے جلے کیے ہیں۔  بہت ممکن ہے کہ اللہ ان پر رحمت کی نظر ڈالے۔  یقینا اللہ بخشنے والا ہے بڑا مہربان۔

3۔ گناہ آلود افراد

یہ وہ لوگ ہیں جن کو قرآن مجید نے فاسق کا خطاب دیا اور فرمایا کہ اگر کوئی فاسق شخص کوئی خبر لے کر تمہارے پاس آئے تو اس کی بات تحقیق کے بغیر قبول نہ کرو۔ سورہ حجرات کی آیت 6 کا مضمون یہی ہے:

"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَائكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإ فَتَبَيَّنُوا"۔ اس آیت کا مصداق شیعہ اور سنی تفاسیر نے بیان کیا ہے۔

4۔ ظاہری مسلمان

یہ وہ لوگ تھے جو مسلمان ہونے کا دعوی تو کرتے تھے مگر ایمان ان کے قلب و روح کی گہرائیوں میں گھر نہیں کرسکا تھا۔

اللہ تعالی نے سورہ حجرات میں ان لوگوں کی طرف اشارہ ہوا ہے:

"قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِن قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ"۔ (36)

ترجمہ: اور یہ دیہاتی و صحرائی عرب آپ سے کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے، کہئے کہ تم ایمان نہیں لائے ہو، مگر یہ کہو کہ ہم اسلام لائے ہیں اور ابھی ایمان تمہارے دلوں میں تو داخل ہوا نہیں ہے۔

5۔ منافقین

یہ وہ لوگ تھے جو کبھی جانے پہچانے اور کبھی انجانے، روحِ نفاق لے کر مسلمانوں کے بیچوں بیچ زندگی بسر کرتے تھے اور اسلام اور مسلمانوں کی پیشرفت میں رکاوٹیں ڈالنے سے ہرگز دریغ نہیں کرتے تھے۔

سورہ توبہ کی آیت 100 میں صالح مؤمنین کا ذکر کرنے کے بعد آیت 101 میں ان لوگوں کا ذکر آیا پے؛ ارشاد خداوندی ہے:

"وَمِمَّنْ حَوْلَكُم مِّنَ الأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُواْ عَلَى النِّفَاقِ"۔

ترجمہ: اور آپ کے گرد رہنے والے صحرائی عربوں (بادیہ نشینوں) میں منافقین ہیں اور مدینہ کے باشندوں میں بھی (منافقین) ہیں وہ نفاق (منافقت) پر سرکشی کے ساتھ قائم ہیں۔

بلاشک و شبہہ ان افراد نے رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا دیدار کیا تھا، آپ (ص) کی مصاحبت و معاشرت سے بہرہ مند ہوئے تھے، ان میں سے کئی افراد نے کئی غزوات میں شرکت کی تھی۔

چنانچہ ہم اصحاب کا جس طرح بھی تعارف کرادیں درست ہے اور ہر توصیف ان پر صادق آتی ہے۔ یہ پانچ (قرآنی) گروہ ساری تعاریف کا مصداق ہیں اور یہ سوال اپنی جگہ باقی ہے کہ کیا ان سب کو اہل جنت گردانا جاسکتا ہے؟

کیا قرآنی نصوص کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ اعتدال کا راستہ اپنایا جائے؟ اور صحابہ کو پانچ قرآنی گروہوں میں تقسیم کریں، نیک و صالح افراد کی تکریم و تعظیم کریں اور دوسرے گروہوں میں ہر ایک کو ان کا اصلی مقام دیں اور غلو، زیادہ روی اور تعصب سے اجتناب کریں؟

(التجا یہ ہے کہ منصفانہ فیصلہ کریں)۔

8۔ تاریخ کی گواہی

تنزیہ صحابہ کا عقیدہ، اس عقیدے کے حامیوں کے لئے متعدد دشواریوں کا باعث بنا ہوا ہے۔ ان ہی دشواریوں میں ایک عظیم تاریخی مشکلات کا مجموعہ ہے؛ کیونکہ اہل سنت برادران کی قابل اعتماد تواریخ، حتی کہ صحاح کی کتابوں میں ـ ہم بعض صحابہ کے درمیان شدید جھگڑوں کا مشاہدہ کررہے ہیں اور یہ ہمارے بس کی بات نہیں ہے کہ جھگڑے کے دونوں فریقوں کو صالح، عادل اور مقدس سمجھیں، کیونکہ یہ جمع ضدین (دو متضآد اشیاء کے اجتماع) کی مانند ہے۔ اور ضدین کا عدم اجتماع عقلی بدیہیات میں شمار ہوتا ہے۔ (37)

امام مسلمین امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے خلاف طلحہ و زبیر اور معاویہ کی برپا کی ہوئی جنگ جمل اور جنگ صفین سے قطع نظر، اگر ہم حقائق پر اپنی آنکھیں بند نہ کریں۔ یہ ہماری مجبوری ہے کہ جنگ بھڑکانے والوں کی خطاؤں اور جرائم کا اعتراف کریں۔ تاریخ میں اس امر کے شواہد بہ‏وفور پائے جاتے ہيں مگر ہم اس مختصر سے رسالے میں صرف تین مثالیں ذکر کرنے پر اکتفا کرتے ہیں:

1۔ صحابہ ازواج رسول (ص) پر تہمت باندھتے ہیں! صحابہ اور قبائلی تعصب!

مشہور محدث محمد بن اسماعيل البخاري نے اپنی صحیح کی "کتاب التفسیر" میں "مسئلۂ افک" (اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی زوجہ مکرمہ پر بہتان تراشی) کے بارے میں لکھتے ہیں: ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم منبر پر رونق افروز تھے۔ آپ (ص) نے آواز دی اور فرمایا: اے مسلمانو! کون اس شخص کو سزا دے گا؟ (شخص سے مراد منافقین کا ایک سرغنہ عبد الله بن أبي ابن سلول (یا عبداللہ بن اُبَيْ) تھا)؛ مجھے بتایا گیا ہے کہ اس نے میری زوجہ پر