ابنا: محمود الرمحی نے کہا ہے کہ فلسطینی قیدیوں کے ساتھ صہیونی ریاست کا وحشیانہ سلوک اس حکومت کے نقصان میں جاۓ گا۔ محمود الرمحی نے صہیونی ریاست کی جیلوں کی صورتحال کو کشیدہ قرار دیتے ہوۓ کہا کہ اگر صہیونی ریاست نے اپنے غیر انسانی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا تو وہ جیلوں پر اپنا کنٹرول برقرار نہیں رکھ سکے گی۔ محمود الرمحی نے فلسطینی قیدیوں کی بھوک ہڑتال کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ قیدیوں نے اپنے قانونی مطالبات کے حصول کے لۓ بھوک ہڑتال کر رکھی ہے اور وہ اپنے مقاصد کے حصول تک بھوک ہڑتال جاری رکھیں گے۔ واضح رہےکہ صہیونی ریاست کی جیلوں میں قید بعض فلسطینیوں نے اپنے حقوق کی پامالی کے خلاف اعتراض کرتے ہوۓ بھوک ہڑتال شروع کی ہے اور اپریل کے مہینے میں صہیونی ریاست کی جیلوں کے قید تمام فلسطینی غیر معینہ مدت تک کے لۓ بھوک ہڑتال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
اسرائيل دسیوں برس سے عالمی اداروں کی خاموشی اور یورپی حکومتوں کی حمایت کی وجہ سے فلسطینیوں پر اپنے مظالم خصوصا فلسطینی قیدیوں پر تشدد جاری رکھے ہوۓ ہے۔ اسرائیل فلسطینی عوام کو کچلنے کی اپنی پالیسی جاری رکھتے ہوۓ پانچ ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کو اپنی جیلوں میں قید کۓ ہوۓ ہے۔ اور وسیع پیمانے پر فلسطینیوں کی گرفتاریوں کی وجہ سے صہیونی ریاست کی جیلوں میں قید کۓ جانے والے فلسطینیوں میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ صیہونی جیلوں میں قید فلسطینیوں کو بہت ابتر صورتحال کا سامنا ہے اور صہیونی ریاست ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھاتی ہے۔ صہیونی ریاست کی جیلوں میں اب تک سیکڑوں فلسطینی تشدد کی وجہ سے شہید ہوچکے ہیں جبکہ سیکڑوں قیدی مختلف لاعلاج بیماریوں میں مبتلاء یا ہمیشہ کے لۓ معذور ہوچکے ہیں۔
فلسطینی شہریوں خاص کر فلسطینی قیدیوں پر صہیونی ریاست کے مظالم جاری ہیں لیکن اس کے باوجود عالمی برادری نے ان مظالم پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ جس کی وجہ سے یہ حکومت اپنے غیر انسانی اقدامات کو جاری رکھنے کے سلسلے میں زیادہ جری ہو چکی ہے۔
ان حالات میں فلسطینی قیدی بھوک ہڑتال کے ذریعے اپنی آواز دنیا والوں تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ راۓ عامہ عالمی اداروں سے یہ توقع رکھتی ہے کہ وہ فلسطینی عوام خصوصا فلسطینی قیدیوں کی حمایت کے سلسلے میں ٹھوس اقدامات انجام دے کر صیہونی حکومت کی جانب سے فلسطینیوں کے لۓ کھڑی کی جانے والی مشکلات کو ختم کریں گے۔ ......./169