ابنا: ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے آج تہران میں ملکی و غیر ملکی نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے خلاف فوجی اقدام کیلئے امریکہ اور غاصب صہیونی ریاست کی دھمکیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف نفسیاتی جنگ اور تشہیراتی یلغار کا مقصد ایران کے نویں پارلیمانی انتخابات میں عوام کی شرکت کو متاثر کرنا تھا مگر ایرانی قوم نے مجلس شورائے اسلامی کے انتخابات میں اپنی 64 فیصد شرکت سے انھیں منھہ توڑ جواب دے دیا۔ جناب رامین مہمان پرست نے کہا کہ انتخابات کا پرشکوہ انعقاد کہ جس میں عوام نے اپنی بھرپور شرکت سے پوری دنیا پر یہ ثابت کردیا کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرتے ہیں،اپنی آزادی اور علاقائی تبدیلیوں کے حوالے سے عوام کے احساس ذمہ داری کی ایک علامت ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان جناب رامین مہمان پرست نے ایران اور گروپ 1+5 کے درمیان مذاکرات کی تاریخ اور جگہ کے بارے میں کہا کہ تہران نے مذاکرات کے نئے دور کے آغاز کیلئے ہمیشہ اپنی آمادگی کا اعلان کیا ہے اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے امور کی سربراہ اور ایران کی قومی سلامتی کی اعلی کونسل کے سکریٹری کے درمیان ہونے والی خط و کتابت کے پیش نظر یہ مذاکرات جلد ہی انجام پائیں گے اور ان مذاکرات کی میزبانی کیلئے کئی ملکوں نے آمادگی ظاہر کی ہے تاہم ابھی کوئی یقینی فیصلہ نہیں ہوا ہے البتہ ایک باضابطہ آمادگی کا اعلان ترکی کے شہر استنبول کے بارے میں ہے جہاں مذاکرات کا یہ عمل انجام پانے کا دار و مدار فریقین کی رضا مندی پر ہے۔ ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے ایران میں انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر احمد شہید کی حالیہ رپورٹ کے سلسلے میں کہا کہ اس قسم کے اقدامات جب تک سیاسی محرکات کے ساتھہ انجام پاتے رہیں گے اور قضاوت کیلئے انصاف کرنے والوں کو جب تک دہشت گرد گروہوں سے اطلاعات و معلومات ملتی رہیں گی وہ اس طرح کی غیر حقیقت پسندانہ رپورٹوں کے علاوہ اور کچھہ پیش نہیں کرسکیں گے۔ جناب رامین مہمان پرست نے کہا کہ یہ بات قابل افسوس ہے کہ ایسی رپورٹوں کیلئے ایسے ذرائع اور گروہوں سے استفادہ کیا گیا ہے کہ جن کے ریکارڈ،قتل و غارتگری۔ دہشت گردی اور غیر انسانی اقدامات جیسے جرائم سے بھرے پڑے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ دہشت گردی سے ایران نے سب سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے کہا کہ تہران تمام ملکوں میں انسانی حقوق کی بحالی کیلئے زیادہ ذمہ داری سے عمل کرتا ہے اور انسانی حقوق کی تنظیموں اور انسانی حقوق کے اعلی کمیشن کے ساتھہ تعاون کرتا رہا ہے اور مزید تعاون کیلئے آمادگی بھی رکھتا ہے۔
جناب رامین مہمان پرست نے شام کے امور میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے خصوصی ایلچی کوفی عنان کے دورۂ دمشق کے بارے میں تہران کے موقف کے حوالے سے کہا کہ شام میں پیش آنے والے واقعات اور ان واقعات کے سلسلے میں مختلف ملکوں کے بیانات کے بعد جب بین الاقوامی مبصر اور عرب لیگ کے نمائندے کی حیثیت سے کوفی عنان کے شام جانے کی تجویز پیش ہوئی تو اپنی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد انھوں نے سب سے پہلے جس غیر ملکی اعلی عہدیدار سے ملاقات کی وہ ایران کے وزیر خارجہ ہی تھے جن سے یہ ملاقات جنیوا میں انجام پائی۔ ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے امید ظاہر کی کہ کوفی عنان کی سرگرمیاں آزادانہ۔ غیر جانبدارانہ اور منصفانہ طور پر انجام پائیں گی جن کے نتیجے میں شام میں تشدد کا خاتمہ ہوگا اور حکومت اور مخالفین کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کیلئے فضا سازگار ہوگی نیز اس ملک کے داخلی امور میں بیرونی مداخلت کی ہرگز اجازت نہیں دی جائیگی۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایران اور جمہوریہ آذربائیجان کے تعلقات کے بارے میں بھی کہا کہ تہران اپنی خارجہ پالیسی میں پڑوسی ملکوں کے ساتھہ تعلقات کے فروغ پر خاص طور سے توجہ دیتا ہے اور اس کا خیال ہے کہ علاقائی ملکوں کے تعاون کے زیر سایہ ان ملکوں کے مفادات اور امن و استحکام کا تحفظ ہوگا۔ ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان جناب رامین مہمان پرست نے غزہ پر غاصب صہیونی ریاست کے حملوں کی شدید مذمت کی اور تاکید کے ساتھہ کہا کہ یہ وحشیانہ جارحیت غاصب صہیونی ریاست کی ماہیت کا ایک حصہ ہے جس کا مقصد مزاحمت کا محاذ کمزور بنانا ہے۔
.........
/169