ابنا: عماد زہیری نے پیر کے روز جنیوا میں کہا کہ فلسطین انسانی حقوق کی کونسل کو فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے آگاہ کرنا چاہتا ہے کیونکہ صہیونی ریاست نے چند دنوں سے فلسطینیوں کا قتل عام شروع کر دیا ہے۔
فلسطین نے انسانی حقوق کونسل سے ایسے حالات میں یہ درخواست کی ہے کہ جب صیہونی حکومت نے گزشتہ چند دنوں سے غزہ پٹی پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں جن میں درجنوں فلسطینی شہید اور زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ ایسے وقت میں ہے کہ غزہ پر حملوں کو جاری رکھنے کی صہیونی ریاست کی دھمکیاں فلسطینیوں کے مزید قتل عام کے اس ناجائز حکومت کے منصوبے کو بیان کرتی ہیں اور اس چيز نے عالمی رائے عامہ کو سخت تشویش میں مبتلا کر دیا ہے جبکہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں سمیت بین الاقوامی ادارے صہیونی ریاست کے مظالم اور بربریت پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے آخرکار کئی دنوں کے بعد خاموشی کو توڑتے ہوئے ان حملوں پر صہیونی ریاست کی مذمت کیے بغیر ان پر صرف تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے گزشتہ چند روز کے دوران دنیا کے مختلف علاقوں میں انسانی حقوق کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے کئی اجلاس منعقد کیے ہیں لیکن اس نے صہیونی ریاست کی جارحیت کی جانب کوئي اشارہ نہیں کیا ہے گویا اس کے نزدیک غزہ میں کچھ ہوا ہی نہیں ہے۔ یہ کونسل صہیونی ریاست کی جارحیتوں کا فوری اور ہنگامی جائزہ لینے کے بجائے مغربی حکومتوں کی ڈکٹیشن پر ان ملکوں کی حکومتوں کے خلاف سرگرم رہی ہے کہ جو مغرب کے تسلط کو قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں۔
مغربی حکومتوں کے غلط اقدامات کی وجہ سے انسانی حقوق اور قانون کے بین الاقوامی اداروں کی کارکردگي نہ صرف سیاسی رنگ اختیار کر گئي ہے بلکہ یہ ادارے اپنی ساکھ بھی کھو چکے ہیں اور انسانی حقوق جیسے اہم مسائل پر توجہ دینے کے بجائے یہ ہم جنس پرستی جیسے غیراخلاقی مسائل پر اپنا وقت برباد کر رہے ہیں اور دنیا میں غیراخلاقی برائیوں کو رواج دے رہے ہیں کہ جن کی دنیا کے اکثر ممالک کی طرف سے مخالفت کی جا رہی ہے۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ہم جنس پرستوں کے حقوق کی پامالی کے بارے میں ہونے والے اجلاس کا اسلامی ممالک نے احتجاجا بائیکاٹ کیا ہے۔ مغربی ممالک کے زیراثر یہ کونسل غفلت کا شکار ہے اور غزہ پر اسرئیلی جارحیت کے نتیجے میں رونما ہونے والے المیے کو نظرانداز کرنا اس کی تائید کرتا ہے۔....... /169