ابنا: شام سے متعلق عالمی کوششوں کا نیا دور ایسی حالت میں شروع ہوا ہے کہ اس ملک کے صدر بشار اسد نے ماضی کی مانند شام سے متعلق حقیقت پسندانہ تجاویز اور دمشق کی حکومت کے درمیان مفاہمت پیدا کئے جانے پر تاکید کی ہے۔ اور یہ مسئلہ شام میں بحران و بدامنی پیدا کرنے کیلئے جاری بیرونی مداخلت کے باوجود اس ملک کے اندرونی مسائل حل کرنے کیلئے شامی حکام کی جاری کوششوں اور نیک نیتی کو ثابت کرتا ہے۔ اسی تناظر میں شام کے صدر بشار اسد نے عرب لیگ اوراقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے خصوصی نمائندے کوفی عنان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام میں مسلح عناصر کو کنٹرول کئے بغیر سیاسی مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکتے۔ انھوں نے تاکید کے ساتھہ کہا ہے کہ جبتک یہ مسلح عناصر شام میں عوام اور فوجیوں کا قتل عام اور بدامنی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں سیاسی مذاکرات کامیاب نہیں ہوسکتے۔ شام کے صدر بشار اسد نے اپنے ملک کی صورتحال اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کیلئے بعض علاقائی و بیرونی ملکوں کی کوششوں کی مذمت بھی کی۔ اس ملاقات میں کوفی عنان نے بھی شام کے امور میں غیر ملکی مداخلت کی مخالفت اور آزادانہ و غیر جانبدارانہ کوششوں پر زور دیتے ہوئے شام کے بحران کے پرامن حل کی ضرورت پر تاکید کی ۔ شام کے امور میں عرب لیگ اوراقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے خصوصی نمائندے کوفی عنان نے مصر کے دار الحکومت قاہرہ میں عرب لیگ کے سکریٹری جنرل نبیل العربی سے بھی ملاقات میں کہا تھا کہ شام کے مسئلے کو فوجی بنائے جانے سے اس ملک کی صورت حال مزید ابتر ہوگی اسلئے شام کے مسائل کا پرامن طریقے سے حل تلاش کئے جانے کی ضرورت ہے۔یقینا کوئی بھی انصاف پسند انسان شام کی صورت حال پر نظر ڈال کر اس خطرناک سازش کو سمجھہ سکتا ہے جو شام اور اس ملک کے عوام کے خلاف تیار کی گئی ہے اسلئے شام کا بحران حل کرنے کیلئے حکومت مخالفین کو مسلح کئے جانے سمیت ایسی تمام سازشی کوششوں اور اقدامات سے گریز کئے جانے کی ضرورت ہے کہ جن سے اس ملک کی صورت حال اور زیادہ بگڑ سکتی ہے اور ایک با تجربہ اور بین الاقوامی سفارت کار کی حیثیت سے کوفی عنان کے مواقف سے بھی کسی حد تک اسی بات کی عکاسی ہوتی ہے۔ اور اب جبکہ کوفی عنان شام کے سلسلے میں ایک اہم فریضہ انجام دے رہے ہیں رائے عامہ بھی ان سے اس بات کی توقع رکھتی ہے کہ وہ شام کے حالات کے بارے میں مغربی ملکوں کی باتوں میں نہ آکر اپنا اہم اور موثر کردار ادا کریں گے۔ ایسی صورت حال میں شام میں غیر ملکی مداخلت کی مخالفت اور اصلاحات کی انجام دہی کیلئے شامی عوام کے مطالبات کے جواب میں حکومت دمشق کی کوششوں پر کوفی عنان کی توجہ،اس ملک کے حوالے سے عرب لیگ اوراقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے خصوصی نمائندے کی ڈپلومیسی کیلئے ایک مناسب ڈھانچہ تیار کرسکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شام کی صورت حال کا جائزہ لینے میں عوامی احتجاجات اور اغیار کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کے درمیان فرق کو سمجھے جانے کی اشد ضرورت ہے مگر قابل افسوس ہے کہ عرب لیگ نے شام میں اس حقیقت پر کبھی توجہ دینے کی کوشش نہیں کی اور اس ملک کی حکومت سے کوئی بھی صلاح و مشورہ کئے بغیر اس نے شام کے مسائل کے حل کیلئے ایک ایسا فارمولہ پیش کیا جو قابل عملدرآمد ہی نہ ہوسکا یہانتکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن ملکوں کی حیثیت سے روس اور چین نے اس فارمولے کی حمایت نہیں کی۔ چنانچے شام میں بیرونی مداخلت اور خاص طور سے فوجی کاروائی کیلئے حالات سازگار بنانے سے متعلق عرب لیگ کے نادرست فارمولے پر جاری مخالفتوں کے دائرے میں روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے قاہرہ میں عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کے ساتھہ اپنے حالیہ مشترکہ اجلاس میں ایک بار پھر تاکید کے ساتھہ کہا ہے کہ شام میں غیر ملکی مداخلت فوری طور پر بند ہونی چاہئے۔......./169
10 مارچ 2012 - 20:30
News ID: 302052
شام کے امور میں عرب لیگ اوراقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے خصوصی نمائندے کوفی عنان کے دورۂ دمشق اور شام کے صدر بشار اسد سے ان کی ملاقات کے ساتھہ ہی اس ملک کے بارے میں عالمی کوششیں نئے اور حساس مرحلے میں داخل ہوگئي ہیں۔ جبکہ شام کے سلسلے میں روس کے ساتھہ عرب لیگ کا اجلاس بھی دمشق کے بارے میں جاری علاقائی و عالمی کوششوں اور صلاح و مشوروں کا غمّاز ہے۔