ابنا: ڈاکٹر علی لاریجانی نے آج پارلیمنٹ کے اجلاس کے آغاز کے موقع پر کہا کہ یورپ اور مغرب والوں نے ملت ایران کے خلاف بائیکاٹ اور مہم جوئی کے ایک دور کے بعد خیال کیا کہ انتخابات میں لوگوں کی شرکت کم ہو گی جس کے باعث ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے بین الاقوامی میدان میں زیادہ تعاون کا ماحول پیدا ہو گا اور اس سلسلے میں انہوں نے مایوسی اور ناامیدی پیدا کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر پروپیگنڈا بھی کیا۔انہوں نے کہا کہ علاقے میں حالیہ تبدیلیوں اور انقلابات کے بعد بعض انقلابی اور ملت ایران کے دوست وسیع پروپیگنڈے کی بنا پر تشویش کے ساتھ ایران کے پارلیمانی انتخابات کے نتائج پر نظر رکھے ہوئے تھے جبکہ دوسری طرف علاقے کے بعض موقع پرست کمزور نقطہ کی تلاش میں تھے تاکہ اسے اتنا بڑا کریں کہ اسلامی بیداری کی تحریکوں کو کچل دیں۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے اپنی تقریر میں یہ بات بیان کرتے ہوئے کہ ہم نے گزشتہ ہفتے افغانستان پر قابض امریکی فوجیوں کا ایک انتہائی مکروہ اور ناقابل معافی اقدام دیکھا، مزید کہا کہ قرآن کریم کے بہت سے نسخوں کو نذرآتش کرنا ان کی حیوانیت کی عکاسی کرتا ہے .......
/169