2 مارچ 2012 - 20:30

خط میں افغان صدر کا کہنا ہے کہ سہ فریقی کانفرنس میں پاکستان، ایران اور افغانستان کے درمیان تجارت، امن و امان کی صورتحال اور سکیورٹی سمیت جن معاہدوں پر دستخط ہوئے ان پر عمل کریں گے اور کئے گئے وعدوں کو عملی شکل دینگے۔

ابنا: افغان صدر حامد کرزئی نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات برابری اور باہمی احترام کی سطح پر مزید مضبوط بنانے اور ایک دوسرے کے قریب تر ہونے کی ضرورت ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان صدر نے وزیراعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی کے نام ایک خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے دونوں پڑوسی اور برادر ممالک کے درمیان تعلقات کے فروغ اور تعاون پر اظہار خیال کیا۔ وزیراعظم ہاﺅس اسلام آباد سے جاری اعلامیہ کے مطابق صدر کرزئی نے دورہ پاکستان کے موقع پر پاکستان کی جانب سے مہمان نوازی کا شکریہ ادا کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ ان کے حالیہ دورے میں راہ ہموار ہوئی ہے۔

افغان صدر حامد کرزئی نے خط میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ اسلام آباد میں ہونے والی تیسری سہ فریقی کانفرنس میں تعلقات کو فروغ دینے کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ سہ فریقی کانفرنس میں پاکستان، ایران اور افغانستان کے درمیان تجارت، امن و امان کی صورتحال اور سکیورٹی سمیت جن معاہدوں پر دستخط ہوئے ان پر عمل کریں گے اور کئے گئے وعدوں کو عملی شکل دینگے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان جڑواں بھائی ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ اور برابری کی بنیاد پر تعلقات کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان خطے میں خوشحالی امن اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
 
دیگر ذرائع کے مطابق افغان صدر حامد کرزئي نے وزيراعظم يوسف رضا گيلاني کو خط لکھا ہے، جس ميں انہوں نے دونوں ملکوں کے درميان دوستانہ اور برادرانہ روابط مستحکم بنانے پر زور ديا ہے، ان کا کہنا ہے کہ پاک ايران، افغان صدارتي کانفرنس ميں طے پانے والے باہمي تعاون کے معاہدوں پر ہر صورت عمل کيا جائيگا۔ وزيراعظم گيلاني کو لکھے گئے خط ميں افغان صدر حامد کرزئي نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان نہ صرف دو ہمسائے بلکہ قريبي ساتھي اور جڑواں بھائيوں کي طرح ہيں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کي سلامتي، ترقي اور خوشحالي ايک دوسرے کے ليے لازم ملزوم ہيں اور اس عمل کو آگے بڑھايا جائيگا۔

.......

/169