اہل البیت نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شیعہ 14 سالہ بچہ زبیر علی ولد محمد علی کو گلگت کے علاقے ناپورہ میں صبح شہید کیا گیا تھا جن کی میت اب سے کچھ دیر پہلے گلگت کے ہی علاقے ناپورہ سے ملی ہے۔
بتایاجاتا ہے کہ شہید ہونے والے زبیر علی کے والد محمد علی کسٹم آفس کے اے ایس آئی ہیں۔
یاد رہے کہ دو دن قبل گلگت کے زائرین کی ایک بس کو کوہستان کے علاقے میں روکا گیا تھا اور زائرین کو اتار کر یزیدی درندگی کا نشانہ بنایا گیا تھا جس کے نتیجے میں اٹھائیس زائرین ميں سے 20 شہید اور 8 زخمی ہوئے تھے جس پر ملت تشیع نے زبردست احتجاج کیا اور اس واقعے کی مذمت میں اقوام متحدہ تک نے مذمتی بیانات جاری کئے لیکن حکومت کی طرف سے معمول کے مطابق شیعہ مسلمانوں کے خلاف ہونے والی اس دہشتگردانہ کاروائی پر خاموشی کا سلسلہ جاری ہے اور حکومت کی مجرمانہ خاموشی پر مبنی مجرمانہ پالیسی اب شیعیان پاکستان کے لئے حیرت انگیز نہيں ہے کیونکہ آج بڑے وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ اگر حکومت شیعہ نسل کشی نہ چاہے تو ایک گولی بھی نہیں چل سکتی اور ایک شیعہ کی ناک سے ایک فطرہ خون بھی جاری نہیں ہوسکتا۔
آخری اطلاعات کے مطابق شہید زبیر علی ولد علی محمد کی میت کو ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کیا گیا اور شہید نماز جنازہ مرکزی امام بارگاہ امامیہ میں بعد نماز ظہرین ادا کی گئی........
بشکریہ از شیعہ کلنگ
/169- 110