28 فروری 2012 - 15:07

فاضل عالم دین علامہ حافظ سید محمد ثقلین نقوی کی شہادت پر تعزیتی بیان میں علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ کوئی بھی چیز ایک عالم دین کے انتقال سے پیدا ہونے والے خلا کو پر نہیں کرسکتی۔

ابنا: ممتاز عالم دین علامہ سید محمد یار شاہ مرحوم کے فرزند اور فاضل عالم دین علامہ حافظ سید محمد ثقلین نقوی جو 19  فروری کو دہشت گردوں کے حملے کے نتیجے میں شدید زخمی ہوگئے تھے' زخموں کی تاب نہ لاکر جام شہادت نوش کرگئے۔

ان کی نماز جنازہ 28  فروری (بروز منگل) سہ پہر تین بجے علی پور مظفر گڑھ میں ادا کی گئی۔ 

علامہ سید ساجد علی نقوی نے سفر زیارت سے واپسی پر گذشتہ دنوں شہید علامہ کی بہاولپور ہسپتال میں عیادت بھی کی تھی۔

ان کی شہادت کی خبر موصول ہوتے ہی علامہ سید ساجد علی نقوی نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور سوگوار خاندان سے دلی دکھ اور تعزیت ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایک اہل علم کی شہادت سے پیدا ہونے والا خلاء کبھی پر نہیں ہوسکتا تاہم صوبائی حکومت ان کی مظلومانہ شہادت پر سانحہ کے مرتکب دہشت گردوں کو گرفتار کرکے عبرتناک انجام سے دوچار کرکے متاثرہ خاندان کے دکھ میں شریک ہوسکتی ہے۔

اپنے تعزیتی بیان میں علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ دہشت گردی' قتل و غارتگری اور ٹارگٹ کلنگ نے ملک کی چولیں ہلاکر رکھی دی ہیں اور ملک کی داخلی سلامتی تباہی کی دہانے پر آن پہنچی ہے؛ نہ تو دہشت گردوں کو لگام دی جاسکی نہ ہی ان کے سرپرستوں کو بے نقاب کرکے دہشت گردی کے پس پردہ حقائق کو منظر عام پر لاکر ملک کی تقدیر کے مالک عوام کو حقیقت حال سے آگاہ کیا جاسکا یہی وجہ ہے کہ آئے روز رونما ہونے والے سانحات میں معصوم اور بے گناہ انسان لقمہ اجل بن رہے ہیں اور عوام شدید عدم تحفظ کے احساس سے دوچار ہوکر یہ سوچنے اور سمجھنے پر مجبور ہیں کہ مملکت خدادادپاکستان میں ان کا کوئی پرسان حال نہیں اور ملک کو کوئی کونا اور قریہ ان کے لئے جائے امن نہیں۔

علامہ سید ساجد علی نقوی نے علامہ حافظ سید محمد ثقلین نقوی کی شہادت کو ملک و قوم کے لئے ناقابل تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے صوبائی حکومت کو خبردار کیا کہ وہ اس سانحہ کے مرتکب قاتلوں کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچانے میں تاخیر نہ کرے اور صوبے میں شرپسندوں اور دہشت گردوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر خاص نظر رکھتے ہوئے بدامنی ' انارکی اور فتنہ و فساد کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لئے ٹھوس اور سنجیدہ اقدامات کرکے دہشت گردی اور شرانگیزی سے متاثرہ عوام کو امن و تحفظ فراہم کرے کیونکہ ایک بار پھر فتنہ پرست گروہ کا سر اٹھانا صوبے کے امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے انتہائی مہلک اور نقصان دہ ہے جسے عوام برداشت نہیں کریں گے.
........

/169