ابنا: سانحہ ہربن نالہ کے قریب پیش آیا، جس میں10 تکفیری وہابی دہشتگردوں نے ایک مسافر بس کو روکا اور مسافروں کے شناختی کارڈ چیک کئے اور شیعیان آل محمد (ص) کو الگ کرکے ایک قطار می کھڑا کیا اور اندھادھند فائرنگ کرکے 19 کو شہید کیا جبکہ آٹھ افراد شدید زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو کوہستان اور گلگت کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق زخمیوں کی حالت نازک بتائی گئی ہے اور شہداء کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
واضح رہے کہ مسافر بس میں تین خواتیں اور تین بچوں سمیت 28 افراد سوار تھے۔ سانحہ کی خبر ذرائع ابلاغ تک پہنچنے تک، پولیس اور سیکوٹی فورسز کا کوئہ اتہ پتہ نہیں تھا۔
گلگت اور دیگر علاقوں میں خبر پہنچتے ہی مومنین نے شدید احتجاج شروع کر دیا اورحکومت اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سانحہ کے مجرموں کو بے نقاب کر کے سخت سزا دی جائے۔
واضع ہے کہ یہ واقعہ پہلی بار پیش نہیں آیا ہے، اس سے پہلے بھی کوئٹہ، پاراچنار اور گلگت میں شیعیان اہل بیت (ع) کی بسوں پر فائرنگ ہوتی رہی ہے اور پیروان خاندان رسول (ص) کو شہید کیا جاتا رہا ہے جس کو سیکورٹی فورسز، انتظامیہ اور حکومت کی نااہلی کا منہ بولتا قرار دیا جاسکتا ہے. ..............
/169