ابنا: علامہ محمد امین شہیدی مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل ہیں، اسلام ٹائمز نے دفاع پاکستان کونسل، امریکی جارحیت، مارچ ٹو یروشلم اور دیگر اہم موضوعات پر ان سے انٹرویو کیا ہے، جو اسلام ٹائمز کے قارئین کے استفادے کیلئے پیش خدمت ہے۔
اسلام ٹائمز: ایران کو یہ بیان دینے کی ضرورت کیوں پڑی کہ امریکی حملے کی صورت میں زمین دینے والے ملک پر بھی حملہ کریں گے۔؟علامہ امین شہیدی: بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ جب کوئی دشمن کسی ملک پر حملہ کرتا ہے تو کئی چیزیں اس میں Involve ہوتی ہیں۔ اس میں اسلحہ ہے، فوج ہے، اور زمین ہے، یہ ساری چیزیں ملکر ایک حملہ کے نتائج سامنے لاتی ہیں۔ ایران کے گرد کچھ خلیجی ریاستوں کے ذریعے گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ ایران کی خود مختاری پر حملہ ہوتا ہے تو اس میں صرف امریکہ ملوث نہیں ہو گا، بلکہ جس نے زمین دی ہے وہ بھی حملہ آور ہے۔ جس نے ائیر پورٹس دئیے ہیں وہ بھی حملہ آور ہے، اور یہ ایک عقلی بات ہے جب ایک کولیشن ہو، اس میں پھر جرم سب کا برابر ہوتا ہے۔ امریکہ اگر سات سمندر پار سے آ کر یہاں پہ ایک اسلامی ملک پر اٹیک کر رہا ہے چونکہ اس ملک نے استعمار کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کیا۔ ایران کی سر زمین پر حملہ ہوتا ہے یا اس کی خود مختاری پر حملہ ہوا انہیں پوری طرح سے حق پہنچتا ہے کہ وہ اپنے ملک کا، اپنے نظام کا، اپنی سرحدوں کا تحفظ کریں اور حملہ آور کو جواب دیں۔
اب جس کی کشتی استعمال ہوئی ہے، وہ بھی حملہ آور ہے، جس کی زمین استعمال ہوئی ہے، وہ بھی حملہ آور ہے، جس کا اسلحہ استعمال ہوا ہے، وہ بھی حملہ آور ہے۔ عثمانیوں کی سلطنت کے خاتمے کے بعد مغرب نے خصوصاً انگریزوں نے ان لوگوں کو یا اُن قبائل کو جو ان کے حلقہ بگوش غلام تھے ان کو لا کے ان ریاستوں کا بلا شرکتِ غیرے مالک قرار دیا، اب ان ریاستوں میں نہ جمہوریت ہے، نہ وہاں پہ انتخابات ہیں، نہ انسانی حقوق کا کوئی دفاع ہے۔ ایران جہاں گذشتہ تیس سالوں میں 60سے زیادہ انتخابات ہوئے ہیں۔ جہاں پر گذشتہ تیس سالوں سے جنگ کے بدترین دنوں میں کوئی انتخاب ایک دن بھی تاخیر کا شکار نہیں ہوا۔ جہاں مغرب کے بنائے ہوئے جمہوری اصولوں کے مطابق تمام تر انتخابات شفاف ہوئے ہیں۔ وہاں پر انتخابات کے نتائج ان کو مخدوش نظر آتے ہیں اور وہ اسے غیر جمہوری انداز قرار دیتے ہیں۔
دوسرے لفظوں میں مغرب کا یہ دوہرا معیار ہے کہ اگر کوئی ملک مغرب کا ساتھ دے تو چاہیے وہ صدام جیسا ڈیکٹیٹر کیوں نہ ہو یا چالیس سالوں سے قابض حاکم ہی کیوں نہ ہو، اُن کو منظور ہے۔ اس لیے کہ وہ مغرب کے مفادات کی حفاظت کر رہا ہے۔ لیکن اگر مغرب کے مفادات کا محافظ نہ ہو تو چاہے وہ جمہوری، قابل ترین نظام ہو، تب بھی وہ ان کے لیے قابلِ قبول نہیں ہوتا۔ اب ایسی صورت میں اس دوہرے معیار کا مقابلہ غیرت سے، طاقت سے ہی کر سکتے ہیں۔ ایران یہ کر سکتا ہے اور ایرانیوں نے یہ راستہ اپنایا ہے۔ جیسے حزب اللہ پر اسرائیل کا حملہ دراصل ایران پر امریکہ کا حملہ تھا، انہوں نے اسے ٹیسٹ کے طور پر لیا اور دیکھ لیا کہ حزب اللہ نے اسرائیل کو 33روزہ جنگ میں بھرپور جواب دیا اور وہ جانتے ہیں کہ اگر ایران کے ساتھ چھیڑ خانی ہوتی ہے تو اسرائیل بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ اس صورتحال میں وہ یہ کوشش کریں گے کہ بعض عرب ممالک کو استعمال کیا جائے۔ یہ جو بین الاقومی سطح پر ہمیں دھڑے بندیاں نظر آتی ہیں اس کے پیچھے یہی سازش ہے کہ امت کو اس طرح لڑا دو کہ امت میں اتفاق نہ رہے اور مغرب کے مفادات کو تحفظ مل سکے۔ ایران کو پوری طرح سے یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مملکت کی حفاظت کے لئے حملہ آور کو جواب دے، چاہے حملہ آور کوئی بھی ملک ہو ۔
اسلام ٹائمز: دفاع پاکستان کونسل کو نادیدہ طاقتوں کی کاوش قرار دیا جا رہا ہے، کیا یہ بات درست ہے۔؟علامہ امین شہیدی: ہمارے ملک میں حکومت ہمیشہ ان قوتوں کی رہی ہے جو بظاہر حاکم نظر نہیں آتے۔ اس حوالے سے کوئی شک نہیں کہ اس وقت انہوں نے دفاع پاکستان کونسل کی صورت میں، شیر اور بھیڑ کو، بھیڑئیے اور بکرے کو ایک جگہ جمع کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ پاکستان کے دفاع کا نہیں بلکہ مفادات کا اجتماع ہے۔ چونکہ اس دفاع کے پس پردہ مقتدر قوتیں ہیں، جو جب چاہیں بنائیں، جب چاہیں بگاڑیں، اس لئے یہ اجتماع جلد ٹوٹ جائے گا۔ جب ان کی ضرورت ختم ہو جائے گی تو اس کونسل کو ختم کر دیا جائے گا۔ بریلویت پاکستان میں بہت بڑی قوت ہے، جو اس کونسل میں شامل نہیں ہے۔ ایک مقرر کے آنے سے بریلوی مکتبہ فکر کی ترجمانی نہیں ہو سکتی۔ شیعہ کی کوئی نمائندگی نہیں ہے اور ہونی بھی نہیں چاہیے۔ اسی طرح دیوبند مکتب کی جمعیت علماء اسلام کرتی ہے اور وہ بھی اس اتحاد میں شامل نہیں ہے۔
یہ امت کا اجتماع نہیں ہے بلکہ کچھ مفاد پرستوں کا اجتماع ہے جن کو ہمارے بعض اداروں نے وقتی ضرورت کے تحت تشکیل دیا ہے۔ اس سلسلے میں قاضی حسین احمد، لیاقت بلوچ اور جماعت دعوہ سے میر ی بات ہوئی ہے سب اسی بات پر متفق ہیں۔ دفاع پاکستان نام رکھنے سے پاکستان کا دفاع ممکن نہیں ہے، اس کونسل میں وہ لوگ شامل ہیں جنہوں نے امامبارگاہوں پر بم حملے کئے، مسجدوں کو نشانہ بنایا، سیاسی شخصیات کو نشانہ بنایا، فوج اور پولیس کو نشانہ بنایا اور جب یہ دہشت گرد پکڑے گئے تو یہی دہشگردوں کے سرغنے انہیں چھوڑوانے آئے، کیا وہ لوگ دفاع پاکستان کر سکتے ہیں؟ جن کو تنخواہیں انڈیا دیتا ہے۔ وہ لوگ کیا دفاع پاکستان کریں گے جو قائداعظم کو کافر اعظم کہتے تھے۔
اسلام ٹائمز: اسی کونسل کی روح روان جماعت، جماعت الدعوہ نے چند روز قبل ایم ڈبلیو ایم آفس کا دورہ کیا، اس ملاقات کے کیا مقاصد تھے۔؟ علامہ امین شہیدی: دفاع پاکستان کے پہلے پروگرام کے موقع پر ایم ڈبلیو ایم کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی جسے مسترد کیا گیا۔ اس لئے کہ دفاع پاکستان میں چند ایسے لوگ شامل ہیں جن کے ساتھ کسی شریف اور باکرامت قوم کا بیٹھنا ممکن نہیں ہے۔ جن کی آئیڈیالوجی ہی فساد ہو، جن کی روح کے اندر فساد شامل ہو، ان کے ساتھ نہیں بیٹھا جا سکتا۔ اس کے بعد راولپنڈی میں دفاع پاکستان کونسل کے پروگرام کے لئے گاڑیاں آئیں جن پر جماعۃ دعوۃ کے پرچم لگے ہوئے تھے اور وہاں سے کافر کافر کے نعرے لگے۔ جب ہمیں یہ اطلاع ملی تو میں نے حافظ سعید سے رابطہ کیا جو ممکن نہ ہو سکا۔ اس سے اگلے دن جماعت الدعوۃ کے سیاسی امور کے مسؤل جو حافظ سعید کے داماد بھی ہیں، حافظ خالد ولید انہوں نے رابطہ کیا اور ان تک یہ بات پہنچائی گئی کہ کیا یہی دفاع پاکستان ہے۔ آپ اسلام کی ایک بہت بڑی قوت اور استعمار کے لئے بہت بڑے چیلنج مکتب کے بارے میں ہرزہ سرائی کریں اور امریکی مفادات کی تکمیل کا باعث بنیں۔ اس پر جماعت الدعوہ نے فوری معذرت کی اور کہا کہ اگر ایسا ہوا ہے تو ہم اس کی تفتیش کریں گے ذمہ داران کا محاسبہ ہو گا۔ اس کے بعد معذرت کے لئے جماعت الدعوہ کا ایک وفد جسمیں حافظ ولید اور یحییٰ مجاہد شامل تھے ایم ڈبلیو ایم آفس آئے اور باقاعدہ انہوں نے معذرت کی اور کہا کہ یہ ہمارے ایجنڈے میں شامل نہیں ہے کہ ہم کسی کی تکفیر کریں۔ وفد نے کہا کہ ایم ڈبلیو ایم اور جماعت الدعوہ امریکی انخلاء کے مشترکہ ایجنڈے پر کاربند ہیں، جس کے لئے دونوں جماعتیں ایک طرح سے سوچتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم آپکو اپنا مسلمان بھائی سمجھتے ہیں اور آپ کے ساتھ کھڑا ہونا چاہتے ہیں۔
اسلام ٹائمز: پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ہونیوالی حالیہ ملاقات کے دوران کن نکات پر اتفاق ہوا۔؟علامہ امین شہیدی: عمران خان جب ایم ڈبلیو ایم آفس آئے تھے، ان کے سامنے ایک چودہ نکاتی ایجنڈا رکھا گیا، جو ویب سائٹ اور میڈیا میں بھی موجود ہے، جس کا سب سے پہلا نکتہ یہ تھا کہ ملک سے امریکی اثر و رسوخ کو ختم کیا جائے۔ دوسرا یہ تھا کہ ہم ملک میں بڑھتے ہوئے مغربی کلچر کا مقابلہ کریں گے۔ اب اگر ان نکات کے حوالے سے کوئی ہندو ہو اور مل کر کام کرنا چاہے تو اس کے ساتھ بھی کام کریں گے، چہ جائیکہ مسلمان ہو۔ لہذا، ان نکات کی بنیاد پر ہماری مفاہمت ہوئی ہے۔ دوسرا یہ کہ ہمارا کوئی انتخابی اتحاد یا الائینس نہیں ہے۔ انتخابات کے حوالے سے ہماری شوریٰ میں یہ فیصلہ ہوا ہے کہ ہمیں انتخابات میں براہ راست حصہ نہیں لینا، بلکہ ہماری واضح اور شفاف پالیسی ہے کہ ملک کے کسی بھی حصے میں محب الوطن، فرقہ واریت سے پاک اور ہمارے ایجنڈے پر ایمان رکھنے والے لوگ جو کسی بھی فرقے سے ہوں، ہم ان کا ساتھ دیں گے۔ اس سلسلے میں مولانا فضل الرحمان اور قاضی حسین احمد سے بات جاری ہے۔ اسی طرح ق لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے لوگ بھی رابطے کر رہے ہیں۔
اسلام ٹائمز: مجلس وحدت مسلمین مارچ ٹو یروشلم کے بارے میں کیا موقف رکھتی ہے۔؟علامہ امین شہیدی: اسرائیل نے گزشتہ ساٹھ سالوں سے فلسطین کے لوگوں کی زندگی تباہ و برباد کر رکھی ہے، فلسطینیوں کی چھٹی نسل اسرائیل کے ظلم کا شکار ہو رہی ہے۔ یہ امریکہ اور مغرب کی دوغلی پالیسی ہے کہ کہیں معمولی سا واقعہ ہوتا ہے تو اس پر مغربی میڈیا واویلا کرتا ہے۔ لیکن جہاں ایک قوم عرصہ دراز سے ظلم کی چکی تلے پس رہی ہے اس کی آواز کو دبایا جاتا ہے، اس سلسلے میں ایک انسانی موومنٹ کی ضرورت تھی۔ اب ایک ایسا پلیٹ فارم وجود میں آیا، جسمیں انسانیت کی بنیادوں پر ہندو، سکھ، عیسائی اور یہودی اس میں شامل ہیں۔ یہ پلیٹ فارم صیہونیت کی بربریت پر آواز بلند کر رہا ہے اور اسرائیلی بربریت کے خلاف یروشلم کی جانب احتجاجی مارچ کرے گا، ہم اسکی بھرپور تائید کا اعلان کرتے ہیں۔.......
/169