25 فروری 2012 - 20:30

آل خلیفہ خاندان کے اذیتکدوں میں پابند سلاسل بحرینی راہنما ٹارچر، تشدد اور بدسلوکیوں نیز دھونس دھمکیوں کی وجہ سے نہایت افسوسناک صورت حال سے گذر رہے ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کی مطابق جمعیۃالوفاق الاسلامی الوطنی کے سابق رکن پارلیمان "محمد جمیل الجمری" نے آل خلیفہ کے اذیتکدوں میں پابند سلاسل سیاسی قیدیوں ـ بالخصوص حمد بن عیسی کے مخالف راہنماؤں ـ کی صورت حال کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کو شدید ٹارچر، تشدد اور دھونس دھمکیوں کا سامنا ہے۔

انھوں نے کہا: بحرین کے عوامی راہنما ان تمام مشکلات کے باوجود عوام کو استقامت، سیاسی سرگرمیاں اور غیرمسلحانہ اور پر امن جدوجہد جاری رکھنے کی دعوت دے رہے ہیں اور اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ وہ جائز حقوق کے حصول کے لئے جدوجہد میں عوام کے ساتھ ہیں۔

الجمری نے کہا: گذشتہ کئی برسوں سے آل خلیفہ اور عوام کے درمیان کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں رہا ہے اورمذاکرات کی بحالی کے لئے ہونے والی تمامتر کوششیں ناکام رہی ہيں اور اگر آل خلیفہ کا خاندان پھر بھی مذاکرات پر اصرار کرتا ہے تو ان مذآکرات کے اصولوں کو سابقہ مذاکرات سے مختلف ہونا چاہئے اور ایسے مذاکرات میں "منشور منامہ" کو مدنظر رکھنا چاہئے اور مذاکرات کے نتائج پر ریفرینڈم کا انعقاد ہونا چاہئے۔

انھوں نے انقلاب بحرین کے غیر مسلحانہ پہلو پر زور دیتے ہوئے کہا: بحرین میں ایک پرامن انقلابی تحریک جاری ہے جس کے دائرے میں رہ کر آئینی بادشاہت کے خواہاں بھی اور ملک میں جمہوریت کے قیام کا مطالبہ کرنے والے بھی سرگرم عمل ہیں۔

بحرین کے مستعفی رکن پارلیمان نے کہا: انقلاب بحرین ایک مسلحانہ انقلاب نہیں ہے اور اس انقلاب کے دونوں اہم دھڑے پر امن جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں اور ہمارا مطالبہ ہے کہ آل خلیفہ کی حکومت عوام کو اپنی رائے اور عقیدہ ظاہر کرنے کے مواقع فراہم کریں۔

.......

/169