25 فروری 2012 - 20:30

ڈاکٹر نبیل رجب نے بحرین میں بحران کی شدت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کا آل خلیفہ کی حکومت عوامی انقلاب کو کچلنے میں ناکام ہوگئی ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کی مطابق بحرین انسانی حقوق مرکزکے سربراہ ڈاکٹر نبیل رجب نے کہا ہے کہ بحرین میں بحران جاری ہے، آل خلیفہ خاندان تشدد کے تمام حربے آزمانے اور بیرونی قوتوں کی امداد سے بہرہ مند ہونے کے باوجود عوامی انقلاب کو کچلنے میں ناکام ہوچکا ہے، خلیفی خاندان طرف سے مذاکرات کی دعوت سنجیدہ نہیں ہے کیونکہ اس خاندان نے جس شخص کو مذاکرات کا عمل سونپا ہے اس نے خود ہی اس ملک میں فرقہ وارانہ تصفیئے (Sectarian cleansing) کا منصوبہ پیش کیا ہے جس کا ہدف ملکی اکثریت کو بے دخل کرنا ہے۔

انھوں نے کہا: بحرین کی صورت حال بند گلی میں پہنچ گئی ہے، آل خلیفہ کی خاندانی حکومت نے ابھی تک عوامی مطالبات کا جواب نہیں دیا ہے، اور اس کے باوجود کہ اس کو سعودی عرب اور دیگر ممالک کی مالی اور فوجی حمایت حاصل ہے، ابھی تک بحران کو سیکورٹی اقدامات کے ذریعے قابو میں لانے سے عاجز ہے اور وہ ابھی تک عوامی تحریک کو روک نہیں سکی ہے۔ مخالفین کے ساتھ حقیقی مذاکرات کے لئے حکومت کے پاس کسی قسم کی آمادگی دکھائی نہیں دے رہی ہے تا ہم جائز مطالبات پر عوام کا اصرار، امیدبخش ہے۔

انھوں نے کہا کہ بحرین کی صورت حال بہت زیادہ بگڑ گئی ہے اور آل خلیفہ کی حکومت تمام کوششوں کے باوجود اپنے جرائم چھپانے میں ناکام رہی ہے اور اب پوری دنیا جانتی ہے کہ بحرین میں کیا ہورہا ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ بحرین کے اسپتالوں سے زخمیوں کو گرفتار کیا جاتا ہے، سیاسی قیدیوں کو منظم طور پر ٹارچر کیا جارہا ہے، نئے نئے ٹارچر سیل تعمیر کئے جارہے ہیں، پاکستان جیسے ممالک سے کرائے کے قاتل مسلسل برآمد کئے جارہے ہیں، ترکی سے برآمد ہونے والی بکتر بند گاڑیوں کے ذریعے عوام کو کچلا جارہا ہے، لیکن قوم پامردی کا زبردست مظاہرہ کررہی ہے اور پسپائی کا تصور بھی نہیں کرتی۔

عبدالہادی الخواجہ تین ہفتوں سے بھوک ہڑتا پر ہیں
ڈاکٹر نبیل رجب نے گرفتار ہونے والی دینی اور سیاسی قیدیوں کے ساتھ آل خلیفہ کی بدسلوکی کے بارے میں کہا: ان ہی شخصیات میں سے ایک عبدالہادی الخواجہ ہیں جو انسانی حقوق کے شعبے کے فعال راہنما ہیں اور استاد ہیں، عرب دنیا میں انسانی حقوق کے حوالے سے ان کی خدمات بالکل عیاں ہیں لیکن آل خلیفہ کے غیر انسانی مظالم و جرائم کی بنا پر گذشتہ تین ہفتوں سے بھوک ہڑتال کئے ہوئے ہیں اور ہم اعلان کرتے ہیں کہ اگر انہیں کوئی ناگوار حادثہ پیش آیا یا ان کو جانی خطرہ لاحق ہوا تو اس کی تمام تر ذمہ داری آل خلیفہ کی حکومت پر ہوگی اور ہم اس حادثے کے بعد چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

انھوں نے کہا: بھوک ہڑتال کے چودہویں روز الخواجہ کی حالت خراب ہوگئی تھی اور ان کے گردوں سے خون رسنا شروع ہوا تھا جس کی وجہ سے انہیں اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

انھوں نے کہا: الخواجہ کو یہ ساری مصیبتیں اس لئے جھیلنی پڑ رہی ہیں کہ وہ بحرینی قوم کے حقوق کے لئے جدوجہد کررہے ہیں، عوام کی عزت و وقار کی بحالی، ملکی دولت کی منصفانہ تقسیم، منتخب پارلیمان اور منتخب حکومت کے قیام کا مطالبہ کررہے ہیں اور ہم انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

.........

/169

تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:

بحرین کا انقلاب کرامت/ بحران سے بھاگنے کے لئے آل خلیفہ کا آخری اقدام